حیدرآباد ڈویژن کی انتظامیہ نے عوامی تحفظ کو یقینی بنانے اور ڈوبنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام آبی ذخائر میں swimming ban in water bodies یعنی تیراکی اور نہانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے اور اس کا اطلاق دریائے سندھ، تمام نہروں، تالابوں اور ڈسٹری بیوٹریز پر ہوتا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عوامی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ گرمی کے موسم میں ان مقامات پر نہانے کے دوران اکثر حادثات پیش آتے ہیں۔
پابندی کی وجوہات
دریائے سندھ اور نہری نظام میں پانی کے بہاؤ اور گہرائی کا اندازہ لگانا عام شہریوں کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ دریا میں موجود گڑھے اور تیز لہریں اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ ان خطرات کے پیش نظر انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی غفلت سے بچنے کے لیے ان مقامات تک رسائی کو محدود کیا جائے۔
شہریوں کے لیے ہدایات
مقامی پولیس اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریا اور نہروں کے کناروں کی نگرانی کریں۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
- دریا اور نہروں کے کناروں سے دور رہیں۔
- بچوں کو آبی گزرگاہوں کے قریب کھیلنے سے روکیں۔
- کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قریبی پولیس اسٹیشن کو اطلاع دیں۔
آئندہ کے اقدامات
انتظامیہ جلد ہی ان علاقوں میں آگاہی بورڈز نصب کرے گی تاکہ عوام کو خطرات سے خبردار کیا جا سکے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ حیدرآباد کمشنر آفس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی خلاف ورزی سے گریز کریں۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے مقامی انتظامیہ کے اعلانات پر نظر رکھیں۔
