سندھ بار کونسل (ایس بی سی) نے حیدرآباد کے ضلعی اور سیشن جج کو 20 اگست 2024 کو عدالتی کارروائیاں معطل کرنے کی رسمی درخواست کی ہے تاکہ حیدرآباد بار ایسوسی ایشن کے دفترداروں اور اراکین کے انتخابات کو بلا روک ٹوک مکمل کیا جا سکے۔
12 اگست 2024 کو بھیجی گئی اس درخواست میں ایس بی سی کے سیکرٹری پرویز میمن نے جج سے کہا ہے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ عدالتی کارروائیاں انتخابات کے ساتھ ٹکران نہ جائیں، جو اسی تاریخ کو منعقد ہونے ہیں۔ درخواست میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پولنگ سٹیشن عدالتوں کے احاطوں کے اندر قائم کیے جائیں گے، جن میں حیدرآباد ضلعی عدالتوں کا کمپلیکس بھی شامل ہے۔
- انتخابی تاریخ: 20 اگست 2024
- مقام: حیدرآباد ضلعی عدالتوں کا کمپلیکس
- درخواست دہندہ: سندھ بار کونسل (ایس بی سی)
- مستقبل: عدالتی کارروائیاں معطل کرنا تاکہ بار انتخابات کو سہولت ملے
کیوں عدالتی کارروائیاں معطل کی جانی چاہئیں
پاکستان میں بار ایسوسی ایشن کے انتخابات روایتی طور پر عدالتوں کے اندر منعقد ہوتے ہیں تاکہ سیکیورٹی، نگرانی اور قانونی طریقہ کار پر عمل یقینی بنایا جا سکے۔ حیدرآباد بار ایسوسی ایشن کے پولنگ سٹیشن حیدرآباد ضلعی عدالتوں کے احاطے کے اندر قائم کیے جائیں گے، جس کی وجہ سے عدالتی کارروائیاں بند رکھنا ضروری ہے۔
ایس بی سی کے خط کے مطابق، یہ معطلی معمولی چھٹی نہیں بلکہ ایک ضروری انتظامی اقدام ہے تاکہ انتخابات میں خلل نہ پڑے۔ انتخابات میں صدر، نائب صدر، جنرل سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری، خزانچی اور 15 ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کا انتخاب 2024–2026 کی مدت کے لیے کیا جائے گا۔
عدلیہ کو کیا کرنا ہوگا
حیدرآباد کے ضلعی اور سیشن جج سے توقع ہے کہ وہ 20 اگست 2024 کو صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک عدالتی کارروائیاں معطل کرنے کا رسمی حکم جاری کریں گے، جس میں صبح اور دوپہر کے سیشن دونوں شامل ہیں۔ اس سے وکلاء، جو خود بھی ان انتخابات میں ووٹر ہیں، کو عدالتی ڈیڈ لائنوں یا سماعتوں سے محروم ہونے سے بچایا جا سکے گا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان بھر میں بار انتخابات کے دوران عدالتی کارروائیاں معطل کرنا عام بات ہے، لیکن اس کے لیے بر وقت ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کارروائیاں معطل نہ کی گئیں تو ووٹر ٹرن آوٹ کم ہو سکتا ہے یا پھر عملی تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیوں کہ وکلاء عدالتوں میں مصروف رہیں گے۔
ماضی کے واقعات اور سبق
2022 میں کراچی کے بار انتخابات میں پولنگ سٹیشنوں کے اندر عدالتی کارروائیاں جاری رہنے کی وجہ سے بے قاعدگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے۔ سندھ ہائی کورٹ کو شفافیت یقینی بنانے کے لیے مداخلت کرنی پڑی تھی۔ حیدرآباد بار کی قیادت نے یقین دلایا ہے کہ اس سال کے انتخابات آزاد، منصفانہ اور شفاف ہوں گے، اور پولنگ افسران اور پولنگ ایجنٹوں کی تقرری پہلے ہی کر دی گئی ہے۔
ایس بی سی نے حیدرآباد بار ایسوسی ایشن کو ہدایت بھی دی ہے کہ تمام پولنگ عملے — جن میں رٹرننگ افسران، پولنگ افسران اور سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں — کو 19 اگست 2024 تک پولنگ کی تیاریاں مکمل کرنے کا کہا گیا ہے۔
اگلے اقدامات کیا ہیں؟
- 19 اگست 2024: پولنگ عملے کی آخری تیاریاں
- 20 اگست 2024: بار انتخابات (صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک)
- 21 اگست 2024: ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان
- 22 اگست 2024: نئے دفترداروں کی تقرری
انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل وکلاء کو اپنے پاکستان بار کونسل کی رکنیت کارڈ اور CNIC ساتھ لانا ہوگا۔ ایس بی سی نے خبردار کیا ہے کہ پراکسی ووٹنگ یا جعلی ووٹنگ برداشت نہیں کی جائے گی اور اس سے نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
- اگر آپ حیدرآباد میں وکیل ہیں: ایس بی سی کی سرکاری ویب سائٹ یا حیدرآباد بار ایسوسی ایشن کے نوٹس بورڈ پر اپنے پولنگ سٹیشن کا مقام چیک کریں۔
- اگر آپ ایک متلعق ہیں: 20 اگست 2024 کو فوری سماعتوں سے گریز کریں تاکہ انتخابات کو بلا روک ٹوک مکمل کیا جا سکے۔
- اگر آپ صحافی ہیں: اپ ڈیٹس یا اکریڈیشن کے لیے ایس بی سی کے پبلک ریلیشنز آفیسر سے pr@sindhbarcouncil.gov.pk پر رابطہ کریں۔
اگلے اقدامات پر نظر رکھیں
- کیا حیدرآباد کے ضلعی اور سیشن جج وقت پر عدالتی کارروائیاں معطل کرنے کا حکم جاری کریں گے؟
- کیا انتخابات کسی قانونی چیلنج یا شکایت کے بغیر مکمل ہوں گے؟
- کیا نئے دفتردار 22 اگست 2024 تک عہدے سنبھال لیں گے؟
ایس بی سی نے یقین دلایا ہے کہ انتخابات کے نگران پاکستان بار کونسل سے تعینات کیے جائیں گے جو انتخابی قواعد کی پابندی یقینی بنائیں گے۔ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ایس بی سی الیکشن کمیشن کو election@sindhbarcouncil.gov.pk پر رپورٹ کیا جا سکتا ہے۔
سرکاری اپ ڈیٹس کے لیے وزٹ کریں: www.sindhbarcouncil.gov.pk
