انٹرتھ سوسائٹی اگینسٹ پاورٹی (آئی لپ) نے اسلام آباد میں باضابطہ طور پر انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم پیس بلڈرز فورم پاکستان (IRF-PBF Pakistan) کا افتتاح کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ اس تقریب میں اراکین پارلیمنٹ، سرکاری نمائندوں، سول سوسائٹی کے رہنماؤں اور اقلیتی برادریوں کے افراد نے شرکت کی تاکہ ملک میں باہمی مکالمے کو ادارہ جاتی شکل دی جا سکے اور تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ اس افتتاحی تقریب میں اقلیتی برادریوں کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ منتظمین نے اس بات پر زور دیا کہ تمام شہریوں کی بنیادی آزادیوں کا تحفظ ملکی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے۔ قانون سازوں کو اس پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ پالیسی کی سطح پر موجود خامیوں کو دور کیا جائے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
پالیسی سازی کے ذریعے بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ
نیا قائم ہونے والا یہ فورم قانون ساز اداروں کے ساتھ مل کر موجودہ قانونی ڈھانچے کا جائزہ لے گا اور جہاں ضروری ہوا اصلاحات کی تجاویز دے گا۔ افتتاحی سیشن میں موجود قانون سازوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایسی پالیسیوں کی حمایت کریں گے جو شمولیت اور قانون کے سامنے مساوات پر مبنی ہوں۔ سول سوسائٹی کے کارکنان کا کہنا تھا کہ بین المذاہب امن صرف بیانات سے قائم نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے عملی انتظامی اقدامات، نفرت انگیز جرائم پر فوری بازپرس اور مسلسل عوامی رابطے کی ضرورت ہے۔
شرکا نے نصاب تعلیم میں رواداری کے فروغ کے حوالے سے بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔ ماہرین تعلیم اور مذہبی اسکالرز کا کہنا تھا کہ نصابی کتب سے متعصبانہ مواد کا خاتمہ کیا جانا چاہیے اور ایسے مباحث کو شامل کیا جانا چاہیے جو پاکستان کی کثیر الثقافتی تاریخ کی عکاسی کرتے ہوں۔ شدت پسندی کے خلاف یہ طویل المدتی حکمت عملی معاشرے کو زیادہ پائیدار بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
فورم کے بارے میں اہم معلومات
اقلیتوں کے حقوق اور بین المذاہب امن کے لیے کام کرنے والے کارکنان اور شہریوں کے لیے اس فورم کے بنیادی خدوخال درج ذیل ہیں:
- تنظیم: انٹرتھ سوسائٹی اگینسٹ پاورٹی (آئی لپ)
- نیا منصوبہ: انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم پیس بلڈرز فورم پاکستان (IRF-PBF Pakistan)
- مقام: اسلام آباد
- شرکا: اراکین پارلیمنٹ، سرکاری عہدیدار، سول سوسائٹی اور اقلیتی برادری کے نمائندے
یہ فورم آنے والے مہینوں میں ملک کے دیگر حصوں اور صوبوں میں علاقائی مشاورت کا سلسلہ شروع کرے گا تاکہ نچلی سطح پر مسائل کو سمجھ کر ان کا حل نکالا جا سکے۔
آگے کیا متوقع ہے؟
جیسے ہی یہ فورم اپنے افتتاحی مرحلے سے نکل کر باقاعدہ کام کا آغاز کرے گا، ماہرین کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ یہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے عمل پر کتنا اثر انداز ہوتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کی کامیابی کا دارمدار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ اقلیتی برادریوں کے لیے حقیقی تحفظ اور ملک بھر میں مذہبی تنازعات میں کمی لانے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔
