گوگل باضابطہ طور پر 'پکسل ٹیگ' (Pixel Tag) کے ساتھ بلوٹوتھ ٹریکر مارکیٹ میں قدم رکھ رہا ہے۔ یہ ڈیوائس ایپل کے ایئر ٹیگ اور سام سنگ کے اسمارٹ ٹیگ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس کی 'فائنڈ مائی ڈیوائس' (Find My Device) نیٹ ورک کے ساتھ انٹیگریشن پر کافی چرچا ہے، لیکن پاکستانی صارفین کو اس خریداری میں احتیاط برتنی چاہیے۔

گوگل پکسل ٹیگ کی اہم تفصیلات

  • اعلان کی تاریخ: 14 مئی 2024 کو گوگل آئی/او (I/O) تقریب میں متوقع۔
  • عالمی دستیابی: 30 جون 2024 تک متوقع۔
  • تخمینی قیمت: تقریباً 8,500 سے 11,000 روپے (درآمدی ٹیکس کے علاوہ)۔
  • سرکاری ویب سائٹ: store.google.com
  • کنیکٹوٹی: بلوٹوتھ لو انرجی اور الٹرا وائیڈ بینڈ (UWB) سپورٹ۔
  • مطابقت: اینڈرائیڈ 9.0 یا اس سے اوپر کے ورژنز کے لیے۔

گوگل کے لیے پکسل ٹیگ کی اہمیت

پکسل ٹیگ کی اصل طاقت اس کے نئے 'فائنڈ مائی ڈیوائس' نیٹ ورک میں پوشیدہ ہے۔ گوگل دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد اینڈرائیڈ ڈیوائسز کو استعمال کر کے ایک ایسا نیٹ ورک بنا رہا ہے جو انٹرنیٹ کے بغیر بھی کھوئی ہوئی چیزوں کو تلاش کرنے میں مدد دے گا۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں، جہاں رش زیادہ ہوتا ہے، یہ ٹیکنالوجی گمشدہ اشیاء تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں پکسل ٹیگ کی حقیقت

اس کے جدید فیچرز کے باوجود، میں اسے نہیں خریدوں گا۔ اس کی بنیادی وجہ پاکستان میں گوگل کے ہارڈویئر کی باضابطہ دستیابی کا نہ ہونا ہے۔ اگر آپ اسے کسی امپورٹر سے خریدتے ہیں، تو آپ کو وارنٹی کی سہولت نہیں ملے گی اور ممکن ہے کہ مقامی نیٹ ورک پر اس کی کارکردگی متاثر ہو۔ مزید برآں، 'پریسجن فائنڈنگ' (Precision Finding) فیچر کے لیے آپ کے فون میں UWB چپ کا ہونا ضروری ہے، جو ہر سمارٹ فون میں موجود نہیں ہوتی۔

کیا یہ سرمایہ کاری درست ہے؟

10,000 روپے سے زائد خرچ کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ بلوٹوتھ ٹریکرز تب ہی کام کرتے ہیں جب آپ کی گمشدہ چیز کے قریب سے دوسرے لوگوں کے فون گزرتے ہیں۔ پاکستان کے ان علاقوں میں جہاں گوگل کی 'فائنڈ مائی ڈیوائس' سروسز فعال نہیں ہیں، یہ ٹریکر بیکار ثابت ہو سکتا ہے۔ جب تک گوگل پاکستان میں اپنے ہارڈویئر ایکو سسٹم کی باضابطہ سپورٹ فراہم نہیں کرتا، یہ ڈیوائسز محض ایک مہنگا شوق ثابت ہوں گی۔