آئی سی سی بی ایس ایم فل اور پی ایچ ڈی داخلے 2026 کے لیے ملک بھر کے طلباء کی توجہ جامعہ کراچی کے اس معروف ادارے پر مرکوز ہے۔ انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز (ICCBS) نے حال ہی میں اپنے داخلہ ٹیسٹ کا انعقاد کیا ہے جس میں ہزاروں سائنس گریجویٹس نے حصہ لیا۔ اگر آپ بھی اس ادارے میں داخلہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ کو اس کے تمام ضوابط اور طریقہ کار کو اچھی طرح سمجھنا ہوگا۔
اس تحقیقی ادارے میں داخلہ لینا عام روایتی یونیورسٹیوں جیسا نہیں ہے۔ یہ ادارہ ہائر ای EDUCATION کمیشن (HEC) کے سخت تعلیمی معیار کے تحت کام کرتا ہے۔ چاہے آپ آرگینک کیمسٹری، مالیکیولر میڈیسن یا فارماکولوجی میں داخلہ لینا چاہیں، داخلہ ٹیسٹ میں آپ کی بنیادی تعلیمی قابلیت کو پرکھا جاتا ہے۔
داخلے کے لیے اہلیت کا معیار کیا ہے؟
ایم فل پروگرام کے لیے آپ کے پاس عام طور پر سولہ سالہ تعلیم ہونی چاہیے، جیسے کہ چار سالہ بی ایس ڈگری، ایم ایس سی، یا فار ڈی (PharmD)۔ ایچ ای سی سے منظور شدہ یونیورسٹی کی ڈگری لازمی ہے۔
داخلے کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے درج ذیل شرائط پوری کرنا ضروری ہیں:
- سمسٹر سسٹم میں کم از کم 2.5 سی جی پی اے یا سالانہ سسٹم میں کم از کم 50 فیصد نمبر۔
- ادارے کا اپنا داخلہ ٹیسٹ یا منظور شدہ این ٹی ایس/جی اے ٹی کا پاس سرٹیفکیٹ۔
- پی ایچ ڈی کے امیدواروں کے لیے متعلقہ مضمون میں ایم فل یا اٹھارہ سالہ ڈگری کا ہونا لازمی ہے۔
اپلائی کرنے کا مرحلہ وار طریقہ
جب اگلی داخلہ مہم کا اعلان ہو تو آپ کو درج ذیل مراحل پر عمل کرنا ہوگا:
- آئی سی سی بی ایس کی آفیشل ویب سائٹ پر داخلے کے اشتہار اور دستیاب نشستوں کو چیک کریں۔
- جامعہ کراچی کے آن لائن پورٹل پر جا کر اپنا اکاؤنٹ بنائیں اور تمام تعلیمی کوائف درست درج کریں۔
- نامزد بینک میں داخلہ فیس جمع کروائیں اور اس کی رسید سنبھال کر رکھیں یا پورٹل پر اپ لوڈ کریں۔
- فیس چالان، ڈگریوں، ٹرانسکرپٹس اور شناختی کارڈ کی مصدقہ نقول کے ساتھ فارم کا پرنٹ حاصل کریں۔
- مقررہ تاریخ سے پہلے اپنی درخواست آئی سی سی بی ایس کے داخلہ دفتر میں جمع کروائیں۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ نے حالیہ داخلہ ٹیسٹ میں حصہ لیا ہے تو ادارے کے نوٹس بورڈ یا ویب سائٹ پر میرٹ لسٹ کا انتظار کریں۔ کامیاب امیدواروں کو انٹرویو کے لیے بلایا جائے گا جہاں آپ کے تحقیقی مقالے اور بنیادی معلومات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اپنی تیاری مکمل رکھیں تاکہ انٹرویو کے مرحلے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
