اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) نے جمعے کو استنبول میں اپنے بین الاقوامی ایکسی لینس ایوارڈز 2026 کا اختتام کرتے ہوئے پاکستان اور ترکی کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اپیل کی ہے۔
یہ اعزازافتاحی تقریب 14 مارچ 2026 کو استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں منعقد ہوئی، جہاں 12 پاکستانی کاروباری رہنماؤں اور کمپنیوں کو تجارت، سرمایہ کاری اور جدت طرازی کے شعبوں میں ان کی خدمات پر اعزاز دیا گیا۔ ان میں صافیئر فائبرز کے چیئرمین سمیع اللہ عباس، میٹرو کیش اینڈ کیری پاکستان کے سی ای او خالد محمود اور خاڈی کی بانی آئیشہ خان شامل تھے۔ ان افراد کو پاکستانی برآمدات کو بڑھانے اور ترک کمپنیوں کے ساتھ کاروباری شراکت داریوں کو فروغ دینے پر سراہا گیا۔
آئی سی سی آئی کے صدر ظفر بختاواری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کاروباریوں کو ترکی کے اسٹریٹجک مقام کو یورپ اور وسطی ایشیا کے لیے دروازے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا، "پاکستان کی ترکی کو برآمدات میں 2025 میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے، لیکن ہم مزید بہتر کر سکتے ہیں۔ یہ اعزازات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ہمارا نجی شعبہ اس مہم کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہے۔"
اعزازات سے متعلق اہم حقائق
- تقریب: آئی سی سی آئی بین الاقوامی ایکسی لینس ایوارڈز 2026
- تاریخ: 14 مارچ 2026
- مقام: استنبول، ترکی (پانچ ستارہ ہوٹل)
- اعزاز یافتگان: 12 پاکستانی کاروباری رہنما اور کمپنیاں
- اہم اعزازات: سمیع اللہ عباس (صافیئر فائبرز)، خالد محمود (میٹرو کیش اینڈ کیری)، آئیشہ خان (خاڈی)
- تجارتی اضافہ: 2025 میں پاکستان-ترکی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ
پاکستانی کاروباریوں کے لیے اہمیت
یہ اعزازات ایسے وقت میں آئے ہیں جب دونوں ممالک 2027 تک سالانہ ایک ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو 2025 میں 720 ملین ڈالر تھا۔ ترکی کے پاکستان میں سفیر متین کلیچ نے تقریب میں شرکت کی اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیا، جن میں کاغذی کارروائیوں اور اعلیٰ مال برداری کے اخراجات شامل ہیں۔
پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے پیغام واضح ہے: ترکی ٹیکسٹائل، سرجری کے آلات، چاول اور آئی ٹی خدمات کے لیے ایک اہم منڈی ہے، لیکن کاغذی کارروائی اور رسد اب بھی رکاوٹیں ہیں۔ بختاواری نے کہا، "ہمارے ترکی روانہ ہونے والے سامان کے لیے سینگل ونڈو کلیئرنس سسٹم کی ضرورت ہے۔ فی الحال لاہور سے استنبول تک ایک شپمنٹ کو بندرگاہوں پر تاخیر کی وجہ سے 10 سے 12 دن لگ جاتے ہیں۔"
پاکستانی کاروباریوں کو اگلے اقدامات
- ترکی کے تجارتی میلوں کے لیے اہلیت چیک کریں: ترکی میں ازمیر انٹرنیشنل فیئر (15 سے 24 اگست 2026) اور انقرہ بزنس فورم (12 سے 14 نومبر 2026) منعقد ہو رہے ہیں، جہاں پاکستانی کمپنیاں اپنے مصنوعات کا مظاہرہ کر سکتی ہیں۔
- ایف بی آر کی برآمدی مراعات کا جائزہ لیں: وفاقیBoard of Revenue (ایف بی آر) پاکستان-ترکی فری ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی ایف ٹی اے) کے تحت ترکی کو برآمدات پر صفر ریٹڈ سیلز ٹیکس پیش کرتا ہے۔ اپنی کمپنی کی اہلیت کی تصدیق یہاں کریں۔
- ترکی کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کی تلاش کریں: انویسٹمنٹ بورڈ آف پاکستان (بی او آئی) نے ٹیکسٹائل اور فوڈ پروسیسنگ میں 15 ترک-پاکستانی شراکت داریوں کی فہرست تیار کی ہے۔ اسے یہاں دیکھیں۔
- پی آئی اے کی کارگو پروازوں کا استعمال کریں: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) اب ہفتے میں تین بار استنبول کے لیے براہ راست کارگو پروازیں چلاتی ہے، جس سے ٹرانزٹ کا وقت 30 فیصد کم ہو جاتا ہے۔ بکنگ پی آئی اے کارگو کے ذریعے کریں۔
آنے والے مہینوں میں کیا دیکھنا ہے
- پی ٹی ایف ٹی اے جائزہ: پاکستان-ترکی فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی دورہ جائزہ جون 2026 میں ہوگی۔ کاروباریوں کو چاہیے کہ وہ سرجری کے آلات اور باسمتی چاول جیسی اہم برآمدات پر کم ٹیرف کی مہم چلائیں۔
- کرنسی میں اتار چڑھاؤ: پاکستانی روپے میں جنوری 2026 سے ترکی کی لیra کے مقابلے میں 12 فیصد کمی آئی ہے، جس سے ترکی میں پاکستانی سامان سستا ہو گیا ہے—but مقامی کمپنیوں کے لیے درآمدی اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی تازہ ترین معلومات یہاں پر مانیٹر کریں۔
- توانائی تعاون: ترکی کی توانائی کمپنی زورلو انرجی سندھ میں 200 ملین ڈالر کی ونڈ پاور پروجیکٹ کی تلاش کر رہی ہے، جو برآمدی صنعتوں کے لیے بجلی کی لاگت کو کم کر سکتی ہے۔ پیش رفت پر آلٹرنیٹو انرجی ڈیولپمنٹ بورڈ (اے ای ڈی بی) کی ویب سائٹ یہاں پر نظر رکھیں۔
آخری بات
آئی سی سی آئی کے اعزازات محض تعریف نہیں ہیں—یہ ایک کارروائی کا کال ہیں۔ وہ پاکستانی کاروباری جنھوں نے ترکی کے ساتھ شراکتیں قائم کرنے، برآمدات کو بہتر بنانے اور تجارتی اصلاحات کی مہم چلانے میں جلدی کی، وہی 2027 کے ایک ارب ڈالر کے ہدف کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔ جو ابھی بھی ترکی کے دروازے پر کھڑے ہیں، ان کے لیے استنبول سے پیغام سادہ ہے: ترکی کا دروازہ کھلا ہے—اس میں داخل ہو جاؤ۔
آپ ترکی کو برآمد کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟ اپنے تجربے کا اشتراک کمنٹس میں کریں۔
