اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ICCI) کے مطابق پاکستان میں کاروبار کا مستقبل مصنوعی ذہانت (AI) اور بائیو ٹیکنالوجی کو اپنانے میں پوشیدہ ہے۔ آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے ملکی کاروباری ذہنیت میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے نوجوانوں اور تاجر برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مسابقتی رہنے کے لیے ان جدید شعبوں کی طرف رخ کریں۔

پاکستان میں کاروبار کا مستقبل اے آئی پر کیوں منحصر ہے

پاکستان کی معیشت دہائیوں سے ٹیکسٹائل اور زراعت جیسے روایتی شعبوں پر انحصار کرتی آئی ہے۔ تاہم، آئی سی سی آئی کی قیادت کا ماننا ہے کہ عالمی منڈی اب آٹومیشن اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کو کاروباری امور میں شامل کر کے مقامی سٹارٹ اپس اور کمپنیاں اپنی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنا سکتی ہیں اور اخراجات میں کمی لا سکتی ہیں۔

  • اے آئی کے ذریعے مینوفیکچرنگ میں کارکردگی کو بڑھانا۔
  • بائیو ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی پیداوار اور فصلوں کے معیار میں بہتری۔
  • ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کی عالمی منڈی تک رسائی۔

روایتی شعبوں سے آگے بڑھنا

اگرچہ روایتی شعبے ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، لیکن آئی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ یہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے بہت جلد متاثر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر بائیو ٹیکنالوجی پاکستان کے وسیع زرعی شعبے کے لیے ایک بہترین راستہ ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی فصلیں تیار کی جا سکتی ہیں، جو پاکستان جیسے ملک کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

کاروباری افراد کے لیے اگلا قدم

اگر آپ پاکستان میں کاروباری ہیں، تو چیمبر کا پیغام واضح ہے: پالیسیوں کے بدلنے کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔ اس کا مطلب ہے:

  1. مہارت: اپنے ملازمین کو ڈیٹا اینالٹکس اور کسٹمر سروس کے لیے بنیادی اے آئی ٹولز استعمال کرنے کی تربیت دیں۔
  2. اشتراک: یونیورسٹیوں کے تحقیقی شعبوں اور صنعت کاروں کے درمیان تعاون بڑھائیں تاکہ بائیو ٹیکنالوجی کی ایجادات کو تجارتی شکل دی جا سکے۔
  3. ڈیجیٹلائزیشن: اپنے کاروبار کے اکاؤنٹنگ، انونٹری اور مارکیٹنگ کے نظام کو جدید ڈیجیٹل ٹولز پر منتقل کریں۔

آگے کیا ہوگا

آئی سی سی آئی کے زیر اہتمام آنے والے اقدامات اور حکومتی سطح پر ٹیکنالوجی گرانٹس پر نظر رکھیں۔ چیمبر نے تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تجاویز نجی شعبے کے لیے کس حد تک عملی ترغیبات میں تبدیل ہوتی ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کا انضمام مستقبل کی صنعتی پالیسیوں کا مرکزی نقطہ ہوگا۔