پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) نے چہلم حضرت امام حسین کے موقع پر صوبے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے پر پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ صوبائی پولیس سربراہ نے اپنے بیان میں کہا کہ تمام سیکیورٹی اداروں، ضلعی انتظامیہ اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مشترکہ محنت کی بدولت صوبے بھر میں عزاداری کے تمام جلوس اور مجالس پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوئے۔
صوبے بھر میں وسیع پیمانے پر سیکیورٹی تعیناتی
اس نوعیت کے بڑے مذہبی اجتماعات کے دوران امن و امان کو برقرار رکھنا ایک بڑا انتظامی چیلنج ہوتا ہے۔ صوبے کے مختلف شہروں میں مجموعی طور پر 730 مجالس اور 420 عزاداری جلوسوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی گئی، جس کے لیے ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکار، ٹریفک وارڈن اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے الرٹ رہے۔ لاہور، راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد سمیت بڑے شہروں میں اہم مقامات پر واک تھرو گیٹس، میٹل ڈ détectors اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کڑی نگرانی کی گئی جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈز نے جلوسوں کے روٹس کو مکمل طور پر کلیئر کیا۔
جدید ٹیکنالوجی اور فضائی نگرانی کا استعمال
حساس اضلاع میں سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈرون کیمروں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی گئی۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مرکزی کنٹرول رومز سے جلوسوں کے روٹس کی لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کی گئی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔ علاوہ ازیں، سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر چند حساس اضلاع میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز عارضی طور پر معطل رہیں، جس سے شہریوں کو آمدورفت میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ ان دنوں بڑے شہروں میں سفر کر رہے ہیں تو ٹریفک پولیس کی جانب سے متبادل راستوں اور روٹس کی تبدیلی کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ کسی بھی ناگوار واقعے سے بچنے کے لیے کوشش کریں کہ مذہبی اجتماعات کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور مشکوک افراد یا لاوارث اشیاء کی فوری اطلاع ہیلپ لائن 15 پر دیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
چہلم کے بعد صوبے بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات میں بتدریج کمی متوقع ہے اور پولیس دستے معمول کی گشت پر واپس آ رہے ہیں۔ تاہم، آنے والے ایام میں ربیع الاویل کی آمد کے پیش نظر انتظامیہ کو نئے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے اگلے ہفتے امن و امان کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس بھی طلب کیے جانے کا امکان ہے۔
