اسلام آباد ہائی کورٹ نے ججوں کی تقرری میں تاخیر پر وفاقی حکومت سے سخت سوالات کیے ہیں۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ عدالتی تقرریوں کی سمری کو کیوں روکا گیا ہے اور اس میں تاخیر کی کیا وجوہات ہیں۔
ججوں کی تقرری میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟
جسٹس طاہر محمود نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ عدالتی تقرریوں کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کرنا عدلیہ کے کام کو متاثر کر رہا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ آئینی طور پر صدر مملکت کے پاس اب سمری کو مسترد کرنے کا اختیار نہیں ہے، اس لیے تاخیر کی کوئی قانونی جواز نہیں بنتی۔
اس صورتحال کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- اسلام آباد ہائی کورٹ کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے ججوں کی تعیناتی کے معاملات بھی التوا کا شکار ہیں۔
- عدالتی کارروائی کے مطابق حکومت کا سمری کو روکنا عدلیہ کی آزادی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
- عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر مکمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
آئینی حیثیت اور مستقبل کے اثرات
آئین کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے بھیجی گئی سفارشات پر عمل درآمد کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر ججوں کی تقرری میں تاخیر برقرار رہتی ہے تو عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ عام شہریوں کے لیے یہ تشویشناک ہے کیونکہ خالی اسامیوں کی وجہ سے انصاف کی فراہمی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
وفاقی حکومت کو اب عدالت میں پیش ہو کر اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی۔ اگر حکومت تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہتی ہے تو عدالت مزید سخت احکامات جاری کر سکتی ہے۔ ہم اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی کوئی نئی پیش رفت ہوگی، آپ کو آگاہ کیا جائے گا۔
