اسلام آباد ہائیکোর্ট میں ایک نئی رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں صدر آصف علی زرداری کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے بھیجی گئی عدلیہ کی تقرریوں کی سمری پر تاخیر سے دستخط کرنے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس آئینی چیلنج نے وفاقی دارالحکومت میں عدلیہ کی تقرریوں کے معاملے پر ایوان صدر اور حکومت کے درمیان کھنچاؤ کو ایک بار پھر بے نقاب کر दिया ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے منظور شدہ سمریاں روکنا آئینی طریقہ کار اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے خلاف ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ خالی نشستوں کو پر کرنے میں غیر ضروری تاخیر کا براہ راست اثر اعلیٰ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے بوجھ پر پڑتا ہے۔ وہ عام شہری جو اپنی باری کے منتظر ہیں، اس کشمکش کی وجہ سے مزید مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔

عدلیہ کی تقرریوں میں تاخیر کی اصل وجہ

یہ تنازع اس آئینی طریقہ کار کے گرد گھومتا ہے جس کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے نامزدگیوں کے بعد ججوں نے حلف اٹھانا ہوتا ہے۔ ایک بار جب وزیراعظم سمریوں کی منظوری دے کر ایوان صدر کو بھیج دیتے ہیں، تو صدرِ مملکت کی رسمی توثیق کو عام طور پر ایک آئینی تقاضا سمجھا جاتا ہے نہ کہ صوابدیدی اختیار۔

جب صدر مملکت ایسی سمریوں کو روکے رکھتے ہیں تو ہائیکورٹس میں انتظامی خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ پاکستان بھر کے سائلین اس سیاسی کھنچاؤ کا خمیازہ بھگتتے ہیں کیونکہ عدالتوں میں ججوں کی کمی برقرار رہتی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ایوان صدر کو ہدایت کی جائے کہ وہ زیر التوا فائلوں پر فوری منظوری دے۔

سائلین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے

اگر آپ کا کوئی مقدمہ اعلیٰ عدلیہ میں زیر التوا ہے، تو اس قسم کی انتظامی سست روی کا براہ راست اثر آپ کے انصاف کے حصول پر پڑتا ہے۔ اس کے اہم اثرات یہ ہیں:

  • ججوں کی کمی کی وجہ سے تاریخیں تاخیر سے ملنا۔
  • دیوانی اور تجارتی مقدمات کے فیصلوں میں طویل تاخیر۔
  • وکیل کی بار بار پیشیوں کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ۔
  • آئینی درخواستوں کے انبار میں مزید اضافہ۔

آپ کو اب کیا کرنا چاہیے

عام شہری ان اعلیٰ سطحی تقرریوں کو براہ راست تیز تو نہیں کر سکتے، لیکن آپ اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے باخبر رہ سکتے ہیں۔ اگر آپ کا وکیل ججوں کی کمی کا کہہ کر تاریخ مانگ رہا ہے تو عدلیہ کے انتظامی مسائل کو ریکارڈ پر رکھنے کے لیے تحریری آرڈر شیٹ کی کاپی لیں۔ اپنے دستاویزات کو مکمل رکھیں تاکہ جیسے ہی نئے ججوں کا نوٹیفکیشن جاری ہو اور بینچ دوبارہ تشکیل پائیں، آپ کا وکیل فوری طور پر کیس جلد لگنے کی درخواست دائر کر سکے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

اسلام آباد ہائیکোর্ট کی کاز لسٹ پر نظر رکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ عدالت اس رٹ پٹیشن پر کب سماعت کرتی ہے۔ اگر عدالت کابینہ ڈویژن اور ایوان صدر کو نوٹس جاری کرتی ہے تو آئندہ چند روز میں سرکاری جوابات سامنے آنے کی توقع ہے۔ عدالت کی طرف سے صوابدیدی اختیارات پر کوئی بھی ریمارکس ملک بھر کی دیگر ہائیکورٹس کے لیے ایک بڑا عدلیہ کا نظیر بن سکتا ہے۔