اسلام آباد ہائیکোর্ট میں عدلتی تقرریوں کا معاملہ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعرات کو عدلتی تقرریوں کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا، جو صدر آصف علی زرداری کی جانب سے ججوں کی تقرری اور توثیق کی سمری کی منظوری میں مبینہ تاخیر کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ اس قانونی چیلنج نے ایک بار پھر انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان طریقہ کار پر بحث کو گرما دیا ہے۔
عدالت یہ جائزہ لے رہی ہے کہ آیا آئینی تقرریوں میں تاخیر کے خلاف آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رٹ دائر کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ منصفین اب اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یا نہیں۔
درخواست کے اہم خدوخال
اس آئینی معاملے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- درخواست کا ہدف: صدر آصف علی زرداری کی طرف سے تقرریوں کی سمریوں کی منظوری میں تاخیر۔
- بنیادی قانونی نکتہ: کیا شہری انتظامی تاخیر کے خلاف عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں؟
- مقام: اسلام آباد ہائیکোর্ট، اسلام آباد۔
- کارروائی کا دن: جمعرات کا روز۔
آگے کیا ہوگا؟
عدالت کے فیصلے کے بعد یہ واضح ہو گا کہ آیا یہ مقدمہ باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کیا جاتا ہے یا خارج ہوتا ہے۔ اگر عدالت نے اسے قابل سماعت قرار دیا تو وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ قارئین کو مشورہ ہے کہ وہ مصدقہ فیصلوں کے لیے اسلام آباد ہائیکোর্ট کی کاز لسٹ کا جائزہ لیں۔
