اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے 27 ستمبر 2026 کو ہونے والے pti islamabad protest کو چیلنج کرنے والی درخواست پر سماعت کے لیے ایک لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ معاملے کی انتہائی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور متعلقہ انسپکٹر جنرلز آف پولیس (آئی جیز) کو بھی معاونت کے لیے طلب کر لیا ہے۔ یہ عدالتی مداخلت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک بھر میں مجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچ چکی ہے۔
کیس کے اہم حقائق
- احتجاج کی تاریخ: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 27 ستمبر 2026 کو اسلام آباد کی طرف ملک گیر احتجاج اور لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
- عدالتی کارروائی: اسلام آباد ہائی کورٹ احتجاج کو روکنے یا اسے ریگولیٹ کرنے کی درخواست پر سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دے رہی ہے۔
- طلبی کے نوٹس: عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور اسلام آباد سمیت متعلقہ صوبوں کے آئی جیز کو طلب کیا ہے۔
- مہم کا آغاز: خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ملک گیر مہم کا آغاز کرتے ہوئے 6 ستمبر 2026 کو حیدرآباد، سندھ کا دورہ کیا تاکہ کارکنوں کو متحرک کیا جا سکے۔
عدالت لارجر بینچ کیوں تشکیل دے رہی ہے؟
لارجر بینچ کی تشکیل کا فیصلہ مجوزہ pti islamabad protest کی قانونی اور انتظامی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کو بند ہونے سے بچایا جائے۔ ماضی کے احتجاجی مظاہروں کے باعث سڑکیں طویل عرصے تک بند رہیں، موبائل انٹرنیٹ معطل ہوا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کارکنوں کے درمیان تصادم کے واقعات پیش آئے۔
اٹارنی جنرل اور آئی جیز کو طلب کر کے اسلام آباد ہائی کورٹ ریاست کی تیاریوں کا جائزہ لینا چاہتی ہے۔ عدالت یہ تعین کرنا چاہتی ہے کہ آیا احتجاج کو ریڈ زون کے بجائے مخصوص مقامات، جیسے کہ ڈیموکریسی پریڈ گراؤنڈ تک محدود کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ عدالت کی اولین ترجیح عام شہریوں کے بنیادی حقوق، خصوصاً نقل و حرکت کی آزادی، کاروبار اور سیکیورٹی کا تحفظ ہے۔
پی ٹی آئی کے احتجاجی منصوبے اور مہم
پی ٹی آئی 27 ستمبر کے احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ چاروں صوبوں میں کارکنوں کو متحرک کرنے کی مہم تیز کر دی گئی ہے۔ 6 ستمبر 2026 کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے حیدرآباد، سندھ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کیا اور لانگ مارچ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔
پارٹی کی حکمت عملی کے مطابق خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے قافلے وفاقی دارالحکومت کی طرف پیش قدمی کریں گے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل و حرکت نے اسلام آباد میں سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں، جس کے بعد شہری تنظیموں اور تاجر برادری نے عدالت سے رجوع کیا۔
جڑواں شہروں کے شہریوں کے لیے ہدایات
اگر آپ اسلام آباد یا راولپنڈی میں رہتے ہیں یا وہاں کام کرتے ہیں، تو 27 ستمبر کو ہونے والا pti islamabad protest آپ کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان حالات سے نمٹنے کے لیے درج ذیل اقدامات کریں:
- راستوں کی بندش پر نظر رکھیں: اسلام آباد کے اہم داخلی اور خارجی راستے بشمول فیض آباد، سری نگر ہائی وے اور جی ٹی روڈ پر کنٹینرز لگائے جانے کا امکان ہے۔ سفر سے پہلے راستوں کی معلومات حاصل کریں۔
- ضروری اشیاء کا ذخیرہ کریں: کسی بھی ممکنہ بندش سے بچنے کے لیے 25 ستمبر 2026 تک گھر میں راشن، ادویات اور گاڑیوں میں ایندھن کی دستیابی یقینی بنائیں۔
- دفاتر اور اسکولوں سے رابطے میں رہیں: احتجاج کے ہفتے کے دوران تعلیمی اداروں اور دفاتر کی جانب سے آن لائن کلاسز یا گھر سے کام کرنے (ورک فرام ہوم) کی پالیسی اپنائی جا سکتی ہے۔
- رابطے کے متبادل ذرائع: احتجاج کے دوران موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہو سکتی ہیں۔ اس لیے متبادل کے طور پر پی ٹی سی ایل یا فائبر انٹرنیٹ کنکشن کو فعال رکھیں۔
قانونی جنگ میں آگے کیا ہونے والا ہے؟
لارجر بینچ کی تشکیل پی ٹی آئی کے احتجاجی منصوبوں کے سامنے پہلی بڑی قانونی رکاوٹ ہے۔ آنے والے دنوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے وکلاء کے دلائل سنے گی۔ عدالت کا فیصلہ احتجاج کے مقام اور وقت پر سخت شرائط عائد کرنے سے لے کر وفاقی دارالحکومت کی حدود میں داخلے پر مکمل پابندی تک ہو سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ کے اقدامات پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ سیکیورٹی اور ٹریفک پلان عدالت میں پیش کرے گی، جس سے واضح ہوگا کہ 27 ستمبر کو آنے والے قافلوں سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کیا حکمت عملی ہوگی۔
