چکوال میں ایک بڑی کارروائی کے دوران حکام نے ایک غیر قانونی سگریٹ فیکٹری پکڑی ہے، جس سے تقریباً 25 کروڑ روپے مالیت کا خام تمباکو، تیار سگریٹ اور بھاری مشینری برآمد ہوئی ہے۔ یہ فیکٹری ایک بڑے گودام میں انتہائی خفیہ طریقے سے چلائی جا رہی تھی اور اس کے پاس کوئی قانونی اجازت نامہ موجود نہیں تھا۔
غیر قانونی سگریٹ فیکٹری کے خلاف کارروائی کی تفصیلات
چھاپے کے دوران انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے موقع سے 11 جدید مشینیں قبضے میں لی ہیں جو سگریٹ کی تیاری میں استعمال ہو رہی تھیں۔ گودام میں موجود بھاری مقدار میں خام مال اور تیار شدہ سگریٹس کو سیل کر دیا گیا ہے۔
- ضبط شدہ سامان کی کل مالیت: 25 کروڑ روپے
- قبضے میں لی گئی مشینیں: 11 عدد
- مقام: چکوال
یہ چھاپہ ان غیر قانونی نیٹ ورکس کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جو قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ٹیکس ادا نہ کرنے کی وجہ سے یہ فیکٹریاں سستی سگریٹ مارکیٹ میں لاتی ہیں، جس سے نہ صرف ملکی معیشت متاثر ہوتی ہے بلکہ قانونی طور پر کام کرنے والے ٹیکس دہندگان کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
معیشت پر اثرات اور عام شہری کے لیے پیغام
غیر قانونی طور پر چلنے والی فیکٹریاں ایف بی آر کے مقرر کردہ ٹیکسوں سے بچ کر سگریٹ کی فروخت کرتی ہیں۔ ان مصنوعات میں کسی قسم کے معیار کی جانچ نہیں کی جاتی، جو عام شہریوں کی صحت کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ سگریٹ خریدتے وقت پیکٹ پر ایف بی آر کے لازمی ٹیکس اسٹامپ کو ضرور چیک کریں۔ اگر کوئی پیکٹ مشکوک قیمت پر یا بغیر اسٹامپ کے ملے، تو سمجھ لیں کہ یہ بلیک مارکیٹ کی پیداوار ہے۔
مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے؟
حکام نے اس حوالے سے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ فیکٹری کے مالکان اور اس کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں دیگر اضلاع میں بھی اس طرح کی کارروائیاں تیز کی جائیں گی۔ عوام سے گزارش ہے کہ اگر انہیں اپنے علاقے میں ایسی کوئی غیر قانونی سرگرمی نظر آئے تو متعلقہ ضلعی انتظامیہ یا ایف بی آر کو فوری مطلع کریں۔
