خطے میں جاری سیاسی عدم استحکام اس وقت ایک نئی بلندی پر پہنچ گیا ہے جب iltija mufti crackdown کے الزامات نے پی ڈی پی اور انتظامیہ کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ 8 اگست 2026 کو، التجا مفتی نے عوامی سطح پر الزام عائد کیا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف احتجاج کرنے پر پارٹی قیادت کے خلاف جان بوجھ کر کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔
التجا مفتی کریک ڈاؤن تنازعہ
یہ صورتحال پارٹی ارکان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے بعد مزید سنگین ہو گئی۔ التجا مفتی کا کہنا ہے کہ یہ قانونی کارروائیاں الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں بلکہ جموں و کشمیر میں پی ڈی پی کی سیاسی موجودگی کو ختم کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں۔ پارٹی کا موقف بدستور یہی ہے کہ خطے کی خصوصی حیثیت کو بحال کیا جائے، جسے 5 اگست 2019 کو ختم کر دیا گیا تھا۔
محبوبہ مفتی کا سیاسی دباؤ پر ردعمل
اپنی بیٹی کے دعووں کی حمایت کرتے ہوئے، پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے 7 اگست 2026 کو پریس سے گفتگو کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کو نشانہ بنانا اور اسے کمزور کرنا 2019 کی تبدیلیوں کے بعد سے جاری ہے۔ پارٹی قیادت کے مطابق، حالیہ ایف آئی آرز محض اختلاف رائے کو دبانے اور سات سال قبل کی گئی آئینی تبدیلیوں کے حوالے سے عوامی جذبات کو متحرک کرنے سے روکنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔
پی ڈی پی کے لیے آگے کیا ہوگا؟
پی ڈی پی قیادت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ قانونی رکاوٹوں کے باوجود پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مبصرین کے لیے، اگلے چند ہفتے یہ دیکھنے کے لیے اہم ہوں گے کہ آیا یہ احتجاج مزید زور پکڑتا ہے یا انتظامیہ اپنے اقدامات میں مزید شدت لاتی ہے۔ پارٹی اپنی خصوصی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر مرکوز ہے، حالانکہ آگے کی راہ قانونی اور سیاسی رکاوٹوں سے بھری ہوئی ہے۔
اگر آپ اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تو پارٹی کے سرکاری بیانات اور ایف آئی آر کے حوالے سے مقامی عدالت کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔ سری نگر میں سیاسی ماحول بدستور کشیدہ ہے، اور توقع ہے کہ پی ڈی پی اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے مزید مظاہرے کرے گی۔
