آپ کے ماہانہ بجلی کے بلوں کو دن کے وقت سستی بجلی کی صورت میں کوئی ریلیف نہیں ملنے والا کیونکہ بین الاقوامی قرضہ دینے والے اداروں کی شرائط نے دن کے اوقات کے لیے سستی بجلی کے ٹیرف کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔ وفاقی حکام نے اس بات پر غور کیا تھا کہ بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل کیا جائے تاکہ جب سولر پینلز اضافی توانائی پیدا کر رہے ہوں تو اس وقت کھپت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ لیکن جاری بیل آؤٹ پروگرام کے تحت سخت ساختی اہداف نے ان تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ لاہور، کراچی یا اسلام آباد کا کوئی بھی عام شہری جو پہلے ہی بھاری یوٹیلیٹی چارجز کے بوجھ تلے دبا ہے، اس پالیسی رکاوٹ کا مطلب یہ ہے کہ گرڈ میں وافر سستی بجلی موجود ہونے کے باوجود اسے مہنگی قیمتیں ہی چکانی پڑیں گی۔
آئی ایم ایف کی پابندیاں کیوں حائل ہیں؟
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پاکستان کے مالیاتی خسارے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ ٹیرف میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے سرکاری ڈسٹ্রি بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے لیے محصولات کا خسارہ پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ دن کے وقت رعایت یافتہ نرخ دینے سے سرکاری یوٹیلیٹیز کی قلیل مدتی آمدنی فوراً کم ہو جائے گی، جو پہلے ہی ڈھائی ٹریلین روپے سے زائد کے گردشی قرضے میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ وزارت توانائی کے حکام کا مؤقف ہے کہ متحرک قیمتوں کے تعین سے قومی گرڈ بہتر ہو سکتا ہے اور اضافی سولر جنریشن کو جذب کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، قرضہ دینے والے اداروں کے ماہرین رعایت یافتہ اوقات کو ایک غیر تصدیق شدہ مالیاتی خطرہ سمجھتے ہیں جو ماہانہ ریونیو کے اہداف کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اس صورتحال نے ملک کو ایک عجیب پالیسی مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ لاکھوں صارفین نے مہقے بلوں سے بچنے کے لیے اپنے گھروں کی چھتوں پر سولر سسٹم لگائے ہیں اور دوپہر کے وقت اضافی بجلی مقامی ڈسٹ্রি بیوشن لائنوں میں واپس بھیج رہے ہیں۔ اس کے باوجود، نیپرا اور پاور سیکٹر کے پلانرز ان صارفین کو دن کے وقت کم ٹیرف یا نیٹ میٹرنگ کے ایسے ری وائزڈ نرخ نہیں دے سکتے جو معاشی لحاظ سے فائدہ مند ہوں۔ گرڈ اب بھی سخت اور فرسودہ ہے، جو طلب اور رسد میں توازن پیدا کرنے سے قاصر ہے۔
آپ کے ماہانہ بجٹ پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟
اگر آپ یہ امید کر رہے تھے کہ سولر پینل لگانے یا صنعتی انسنٹوز ملنے سے دن کے وقت آپ کے بجلی کے اخراجات کم ہو جائیں گے، تو آپ کو مایوسی ہوگی۔ موجودہ ٹیرف اسٹرکچر دن کے وقت گرڈ سے استعمال ہونے والی ہر کلو واٹ گھنٹہ بجلی پر یکساں اور بھاری بنیادی نرخ عائد کرتا ہے۔
- مہنگے بنیادی نرخ: گرڈ کی بجلی چوبیس گھنٹے مہنگی رہتی ہے، جس کی وجہ سے واشنگ مشین یا واটার پمپ جیسے بھاری آلات دھوپ کے اوقات میں چلانے کی کوئی مالی ترغیب نہیں ملتی۔
- صنعتی پیداوار کا رکاؤ: جو فیکٹریاں سولر پر چل رہی ہیں وہ دن کے اوقات میں گرڈ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں کیونکہ صنعتی ٹیرف تاحال بہت زیادہ ہیں۔
- سبز توانائی کا ضیاع: اضافی سولر جنریشن جو محلے کی سطح پر سستی بجلی فراہم کر سکتی تھی، لچکدار قیمتوں اور بیٹری اسٹوریج کی عدم دستیابی کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اسلام آباد یا بین الاقوامی قرض خواہوں کی طرف سے دن کے وقت سستی بجلی کے کسی پیکیج کا انتظار مت کریں۔ اگر آپ اپنے بلوں کو قابو میں رکھنا چاہتے ہیں تو ہائبرڈ انورٹر سسٹمز اور بیٹری اسٹوریج میں خود سرمایہ کاری کریں۔ اگرچہ لیتھیم آئن یا ٹیولر بیٹریوں کی ابتدائی لاگت زیادہ ہے، لیکن دوپہر کی سولر توانائی کو شام کے استعمال کے لیے محفوظ کرنا ہی اس وقت مہنگی گرڈ بجلی سے بچنے کا واحد قابل اعتماد طریقہ ہے۔ اپنی روزمرہ بجلی کی کھپت پر کڑی نظر رکھیں اور سورج غروب ہونے کے بعد بھاری آلات صرف بیٹری بیک اپ پر چلائیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
نیپرا کی سہ ماہی ٹیرف سماعتوں اور وزارتِ توانائی کی گرڈ انٹیگریشن پالیسیوں پر نظر رکھیں۔ اس بات کا جائزہ لیں کہ آیا آئندہ قرضہ جائزوں کے دوران پاکستانی مذاکرات کار بڑے صنعتی زونوں میں لچکدار قیمتوں کے پائلٹ پروجیکٹس کے لیے کوئی جگہ بنا پاتے ہیں۔ اگر حکومت بیٹری اسٹوریج پر سبسڈی یا مقامی سطح پر بجلی کی ترسیل کے ماڈلز متعارف کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ اس بات کی پہلی حقیقی علامت ہوگی کہ دن کے وقت سستی بجلی واپس آ رہی ہے۔
