سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادوں نے جمعرات کے روز شائع ہونے والے ایک تازہ انٹرویو میں اپنے قید والد کی صحت کے حوالے سے گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ قاسم اور سلیمان خان نے بین الاقوامی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے لایا ہے جب ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان بیانات کے بعد اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید پی ٹی آئی کے بانی کی جسمانی حالت اور طبی سہولیات پر ایک بار پھر بین الاقوامی میڈیا کی توجہ مبذول ہو گئی ہے۔

سی این این انٹرویو کی تفصیلات اور خاندانی خدشات

جمعرات کو نشر ہونے والے اس انٹرویو کے دوران قاسم اور سلیمان نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے والد تک رسائی تاحال محدود رکھی گئی ہے، جس سے طبی نگہداشت اور روزمرہ کی سلامتی کے بارے میں خاندان کی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دونوں بھائیوں کا کہنا تھا کہ جیل کی موجودہ پابندیوں اور قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے ان کی خیریت کے بارے میں باقاعدہ اور شفاف معلومات حاصل کرنا انتہائی دشوار ہے۔ یہ بین الاقوامی اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کے اندر پی ٹی آئی کی قیادت جیل کے حالات، طبی معائنے اور قانونی ٹیم کی رسائی کے لیے اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔

پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں اور قانونی محاذ کا پس منظر

جمعرات کا یہ انٹرویو براہ راست پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے منعقدہ سرگرمیوں کے ساتھ سامنے آیا ہے، جس نے خاندان کی بین الاقوامی وکالت کو ملکی سیاسی تحریک کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں پارٹی عہدیداروں نے مختلف عدالتوں میں دائر درخواستوں میں متعدد بار صحت سے متعلق شکایات اٹھائی ہیں۔ پنجاب میں جیل حکام کی طرف سے سرکاری ڈاکٹروں کے ذریعے طبی معائنے کی یقین دہانیوں کے باوجود، خاندانی افراد کا اصرار ہے کہ معتبر معالجین کے ذریعے آزادانہ معائنہ اب بھی ممکن نہیں بنایا گیا۔

قارئین کو آگے کیا دیکھنا چاہیے

اسلام آباد اور لاہور میں ہونے والی آئندہ عدالت پیشیوں پر نظر رکھیں، جہاں دفاعی وکلاء کی طرف سے سابق وزیراعظم کے طبی معائنے کے لیے غیر جانبدار میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر زور دیے جانے کا امکان ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور غیر ملکی میڈیا کے ردعمل سے بھی وفاقی حکام پر ملاقات کے قوانین میں نرمی کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں مجاز ملاقاتوں سے متعلق سرکاری بیانات اور پی ٹی آئی ترجمानों کے مؤقف کا مشاہدہ کریں۔