جمعہ اور ہفتے کے روز ملک بھر میں یوم آزادی کی تقریبات روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئیں۔ اس موقع پر سرکاری پرچم کشائی کی تقریبات، تعلیمی اداروں میں اجتماعات اور امن و استحکام کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دارالحکومت سے لے کر صوبائی صدر مقامات تک شہریوں اور سیاسی شخصیات نے قومی دن بھرپور طریقے سے منایا۔
پشاور میں خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی تقریبات کی قیادت کی۔ جمعہ کے روز گورنر ہاؤس میں منعقدہ پروقار پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور پائیدار امن کے حصول کے لیے اجتماعی کوششوں کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ قومی عزم ناگزیر ہے۔
دوسری جانب تعلیمی اداروں میں بھی یوم آزادی کے حوالے سے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی (QAU) میں جمعہ کے روز قومی پرچم لہرانے کی تقریب ہوئی جس میں اساتذہ، طلبا اور انتظامی عملے نے شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد نوجوان نسل کو ملک کے بانیوں کے اصولوں سے روشناس کرانا اور تعمیرِ وطن میں ان کے کردار کو اجاگر کرنا تھا۔
ملک بھر میں پرچم کشائی کی تقریبات
دن کا آغاز ملک کی سلامتی اور ترقی کی دعاؤں کے ساتھ ہوا جبکہ وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں توپوں کی سلامی دی گئی۔ گورنروں اور وزرائے اعلیٰ نے اپنے دفاتر میں قومی پرچم لہرایا اور تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ وفاقی دارالحکومت میں اہم سرکاری عمارتوں پر چراغاں کیا گیا جسے دیکھنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ نے مقامی تقریبات یا پرچم کشائی میں حصہ لیا ہے تو اس کی یادگار تصاویر اپنے حلق احباب میں شیئر کریں۔ تعطیلات کے اختتام کے بعد شہروں میں ٹریفک کی روانی بحال ہونے پر حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
حکومتی شخصیات کی جانب سے یوم آزادی کے موقع پر دیے گئے بیانات اور آئندہ کے ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات پر نظر رکھیں جو آنے والے دنوں میں ملکی پالیسیوں کا حصہ بنیں گے۔
