بھارت کی کئی ریاستوں میں مون سون کی تباہ کن بارشوں نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے، آسام اور کیرالہ میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث مرنے والوں کی تعداد 112 تک پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال نے پورے خطے میں ہنگامی صورتحال پیدا کر دی ہے جہاں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

کیرالہ میں یکم اگست 2024 سے مسلسل ہونے والی موسلا دھار بارش نے متعدد اضلاع میں حالات انتہائی سنگین بنا دیے ہیں۔ شدید بارش کے سبب 52 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ 565 مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور امدادی ٹیمیں پانی میں کھرے ہوئے علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں، مگر مسلسل بارش کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب مشرقی ریاست اوڈیشہ میں بھی سیلابی پانی نے بڑی تباہی مچائی ہے جہاں 22 اضلاع کے لگ بھگ 8 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ دریاؤں میں طغیانی کے بعد کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے عکاسی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ ضلعی حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں صاف پانی اور طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔

زمینی حقائق اور امدادی کارروائیاں

اس بڑے پیمانے پر آنے والی آفت نے مقامی انتظامیہ کے وسائل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، جس کے بعد وفاقی اداروں کو بھی امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے طلب کر لیا گیا۔ آسام اور کیرالہ کے سیلاب زدہ حصوں میں کیچڑ اور مسلسل بارش کے باعث ہیلی کاپٹرز کے ذریعے امدادی سامان گرانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس طرح کے شدید موسمی حالات بار بار سامنے آ رہے ہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ خلیج بنگال میں بننے والے نئے دباؤ کے باعث آنے والے دنوں میں مزید بارشیں ہو سکتی ہیں۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حکومتی اداروں کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امدادی ادارے متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری طور پر مزید امداد کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ انسانی بحران سے نمٹا جا سکے۔