بھارت کی پارلیمنٹ کی مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق قائمہ کمیٹی نے میٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے تین دن کی مہلت دی ہے۔ یہ تنازعہ فیس بک سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ایک ویڈیو کے عارضی طور پر ہٹائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جس پر پارلیمانی پینل نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں ڈیجیٹل پالیسی اور سوشل میڈیا کے امور پر نظر رکھنے والے حلقے اس واقعے کو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتی اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کا ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔
اس پورے تنازعے کی بنیاد میٹا کے مواد کی جانچ پڑتال کے نظام کی وہ کارروائی ہے جس کے تحت بھارتی وزیراعظم کی ویڈیو کو مبینہ طور پر ہٹا دیا گیا تھا۔ اگرچہ پلیٹ فارم نے اس مواد کو کچھ ہی دیر بعد بحال کر دیا تھا، تاہم نئی دہلی میں پارلیمانی کمیٹی نے اسے ملکی قیادت کے خلاف سنگین غفلت قرار دیا۔ قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ سوشل میڈیا کے بڑے اداروں کو من مانے فیصلوں کا حساب دینا ہوگا۔
اس تنازعے کے اہم حقائق
- نشانے پر کون: میٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ
- نوٹس دینے والا ادارہ: بھارت کی پارلیمانی کمیٹی برائے مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی
- بنیادی وجہ: فیس بک پر وزیراعظم نریندر مودی کی ویڈیو کو عارضی طور پر ہٹایا جانا
- مہلت: باضابطہ معافی مانگنے اور وضاحت پیش کرنے کے لیے تین دن کا وقت
خطے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے اثرات
جنوبی ایشیا کی حکومتیں ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنیوں پر قابو پانے کے لیے تیزی سے سخت اقدامات کر رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی پی ٹی اے اور دیگر اداروں کے ساتھ میٹا، ایکس اور گوگل جیسے پلیٹ فارمز کے تعلقات اکثر کشیدہ رہتے ہیں۔ جب بھارت جیسا بڑا ملک کسی ٹیک ٹائیکون سے جواب طلبی کرتا ہے، تو اس سے دیگر علاقائی ریگولیٹرز کو بھی ڈیجیٹل قوانین مزید سخت کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔
قارئین کو کیا کرنا چاہیے؟
پاکستان کے عام انٹرنیٹ صارفین کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے فوری طور پر کوئی قدم اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم جو لوگ ڈیجیٹل مارکیٹنگ، خبروں کی ترسیل یا سیاسی مہمات کے لیے میٹا کے پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں، انہیں پالیسی کی تبدیلیوں سے باخبر رہنا چاہیے۔ حکومتی دباؤ بڑھنے سے اکثر مواد کی رسائی اور علاقائی پابندیوں میں تبدیلیاں آ جاتی ہیں۔
