وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز واضح کیا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش کرکے خود کو خطے میں امن کا دشمن ثابت کر دیا ہے، اور پاکستان اپنے جائز آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
قومی سلامتی اور دوطرفہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ پاکستان کا زرعی ڈھانچہ دریاؤں کے قدرتی بہاؤ پر منحصر ہے اور کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔
وزیراعظم کے خطاب کے اہم نکات:
- آبی حقوق کا تحفظ: پاکستان 1960 کے سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی یکطرفہ ردوبدل یا معطلی کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
- مسلح افواج کو خراج تحسین: وزیراعظم نے آپریشن حق کے شہدا اور وطن کے دفاع پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں کی لازوال قربانیوں کو سراہا۔
- بین الاقوامی فورمز پر پیروی: وزارت خارجہ اور قانونی ٹیمیں عالمی ثالثی عدالتوں کے ذریعے ملکی حقوق کا دفاع جاری رکھیں گی۔
سندھ طاس معاہدے پر تنازع کی نوعیت
عالمی بینک کی ثالثی میں ستمبر 1960 کو طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان طویل جنگوں کے دوران بھی برقرار رہا۔ اس معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں (ستلج، بیاس اور راوی) کا پانی بھارت جبکہ مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم اور چناب) کا کنٹرول مخصوص شرائط کے ساتھ پاکستان کو دیا گیا تھا۔
نئی دہلی کی جانب سے معاہدے پر یکطرفہ نظرثانی کے مطالبات نے سفارتی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب سے لے کر سندھ کے ڈیلٹا تک کروڑوں کسانوں کی معیشت کا دارومدار انہی دریاؤں سے جڑا ہے۔
آپریشن حق کے شہدا کو خراجِ عقیدت
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے ملکی سرحدوں کی حفاظت اور اندرونی امن کے قیام کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جوانوں، بالخصوص آپریشن حق کے شہدا کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کے حوصلے ملک کے دفاع کی مضبوط ضمانت ہیں۔
آئندہ کے سفارتی و تزویراتی اقدامات
پانی کی دستیابی کا براہ راست اثر پاکستان میں فصلوں کی پیداوار، مہنگائی اور تربیلا و منگلا ڈیمز سے بننے والی بجلی پر پڑتا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر درج ذیل پیش رفت اہم رہے گی:
- دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت میں متنازع ڈیموں سے متعلق قانونی کارروائی۔
- وزارتِ خارجہ (mofa.gov.pk) کی جانب سے جاری ہونے والے باضابطہ سفارتی مراسلے۔
- ارسا (IRSA) کی جانب سے صوبوں کے درمیان خریف اور ربیع سیزن کے دوران پانی کی تقسیم کے اعلانات۔
