بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت مسابقتی امتحانات کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کے ساتھ ساتھ نوجوان شہریوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی خصوصی تربیت فراہم کرے گی۔ اس پالیسی کا اعلان ملک بھر میں نوجوانوں کی جانب سے کیے جانے والے بڑے پیمانے پر احتجاج کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے استعفا دینا پڑا تھا۔ اس اقدام کا مقصد معاشی طور پر کمزور پس منظر رکھنے والے لاکھوں طلباء کو مالی مشکلات کے بغیر اعلیٰ معیار کی تکنیکی تعلیم تک رسائی دینا ہے۔

نوجوانوں کے مطالبات اور ڈیجیٹل اسکلنگ

اے آئی ٹریننگ اور مفت کوچنگ کا یہ اعلان نئی دہلی پر بے روزگاری کے بحران سے نمٹنے اور سرکاری تعلیمی نظام کو جدید بنانے کے لیے بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ حکام کے مطابق، آن لائن پورٹل میں سرکاری اور پیشہ ورانہ امتحانات کا احاطہ کیا جائے گا جو پہلے صرف مہنگے نجی کوچنگ مراکز کے ذریعے دستیاب تھے۔ مصنوعی ذہانت کے ماڈیولز متعارف کروا کر حکومت کی کوشش ہے کہ ورک فورس کو جدید تکنیکی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ڈیجیٹل قدم حالیہ عوامی مظاہروں کا براہ راست جواب ہے۔

علاقائی تکنیکی پالیسی پر اثرات

اگرچہ یہ پروگرام بنیادی طور پر بھارت کے مقامی نوجوانوں کو ہدف بناتا ہے، تاہم علاقائی مبصرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ سرکاری سطح پر چلائے جانے والے یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کتنی تیزی سے پھیلتے ہیں۔ عوامی تعلیمی ڈھانچے میں مصنوعی ذہانت کا انضمام مہارتوں کی ترقی کی طرف ایک وسیع رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ طلباء اور نوکری کے خواہشمند افراد مرکزی پورٹلز کے ذریعے ان وسائل تک رسائی حاصل کریں گے، اگرچہ رجسٹریشن کی حتمی تاریخیں ابھی وزارتوں کی طرف سے جاری ہونا باقی ہیں۔

پروگرام کے اگلے مراحل

وفاقی محکمہ جات اس وقت لاکھوں صارفین کے ایک ساتھ استعمال کے لیے درکار نصابی فریم ورک اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ ملک بھر کے تعلیمی ادارے اور تکنیکی شراکت دار آنے والے ہفتوں میں داخلے کے معیار اور کورسز کے بارے میں مزید اعلانات کے منتظر ہیں۔ مبصرین اس بات پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ اقدامات پچھلے ماہ کے احتجاج کا مؤثر سیاسی حل ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔