بھارتی پارلیمانی کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین ششی تھرور نے واضح کیا ہے کہ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو भारत की पड़ोसी विदेश नीति یعنی بھارت کی پڑوسی خارجہ پالیسی میں کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ نئی دہلی میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں استحکام کا دارومدار اس بات پر ہے کہ بھارت اپنے مشرقی اور جنوبی پڑوسیوں کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو کس طرح آگے بڑھاتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی ایشیا میں بالخصوص ڈھاکا میں سیاسی تبدیلیوں اور کولمبو میں معاشی بحالی کے بعد خطے کی حرکیات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔

جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی سیاسی فضا

اسلام آباد اور خطے کے دیگر دارالحکومتوں کے پالیسی ساز اس بات کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ نئی دہلی کس طرح اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو اپنی سلامتی اور اثر و رسوخ کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ ششی تھرور نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ دوطرفہ تعلقات کو محض سکیورٹی کے دائرے تک محدود رکھنے کے بجائے معاشی خود کفالت اور باہمی تعاون کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔ بنگلہ دیش اور سری لنکا دونوں ہی بھارت کے لیے تجارتی راستوں، سمندری سلامتی اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

اس سفارتی تناظر میں جن اہم امور پر توجہ دی جا رہی ہے ان میں درج ذیل شامل ہیں:
- سرحد پار رابطہ کاری اور اقتصادی راہداریوں کے منصوبے۔
- بحر ہند کے خطے میں بحری سلامتی کا اشتراک۔
- معاشی بحران کا شکار ممالک کے لیے تجارتی توازن اور قرضوں کی تشکیلِ نو میں معاونت۔
- آبی وسائل کی تقسیم اور علاقائی تجارت کے معاہدے۔

علاقائی سفارت کاری پر اثرات

اگرچہ بھارت کی سرکاری پالیسی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کی ترجیح 'پہلے پڑوسی' کی بنیاد پر باہمی تعاون ہے، تاہم خطے کے دیگر ممالک ان سفارتی اقدامات کو اپنے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ پاکستان کے خارجہ امور کے ماہرین ان تمام پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ نئی دہلی کے انم چھوٹے ممالک کے ساتھ تعلقات سارک (SAARC) جیسے علاقائی پلیٹ فارمز کے مستقبل کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

آئندہ کن باتوں کا مشاہدہ کرنا چاہیے

آنے والے دنوں میں نئی دہلی، ڈھاکا اور کولمبو کے درمیان اعلیٰ سطح کے دوروں اور دوطرفہ تجارتی معاہدوں پر کڑی نظر رکھیے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بھارت اپنے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ سرحدی اور تجارتی تنازعات کو کس انداز میں حل کرتا ہے، جو اس کی علاقائی پالیسی کا اصل امتحان ہوگا۔