یمن کے ساحل کے قریب ایک بھارتی مال بردار جہاز شدید حملے کے بعد سمندر میں ڈوب گیا ہے، جس سے جہاز کو شدید نقصان پہنچا۔ میری ٹائم حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ جہاز متعلقہ سمندری حدود میں کارروائی کے دوران لگنے والے کاری ضرب کے بعد ڈوب گیا۔ اس واقعے نے مشرق وسطیٰ کے اہم تجارتی راستوں پر سفر کرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔
بحیرۂ احمر میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات
یمن جہاز حملہ کے اس واقعے کے بعد بحیرۂ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ اگرچہ تاحال کسی بھی عسکری گروہ نے اس خاص حملے کی باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس خطے میں حالیہ مہینوں کے دوران اس قسم کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل اس علاقے میں ہونے والے بیشتر حملوں کی ذمہ داری حوثی گروپ قبول کرتا رہا ہے۔
خطے میں گشت کرنے والے بین الاقوامی بحری اتحاد اور سکیورٹی فورسز نے کمرشل فلیٹس کو انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ آبنائے باب المندب کے قریب سے گزرنے والی بڑی شپنگ کمپنیاں خطرناک زون سے بچنے کے لیے اپنے راستے مسلسل تبدیل کر رہی ہیں۔ ان تمام حفاظتی اقدامات کے باوجود مال بردار جہازوں پر اچانک حملے سپلائی چین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
- ڈوبنے سے پہلے جہاز کو شدید ساختی نقصان پہنچا
- ریسکیو اور تلاش کی کارروائیوں کو علاقائی مشکلات کا سامنا ہے
- بحری انشورنس کمپنیوں نے مشرق وسطیٰ کے راستوں کے لیے ریٹس بڑھا دیے ہیں
- اہم تجارتی کمپنیاں اب بھی افریقہ کے راستے طویل سفر کرنے پر مجبور ہیں
علاقائی تجارت اور معیشت پر اثرات
پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے بحیرۂ احمر کی موجودہ غیر یقینی صورتحال کا مطلب فریٹ چارجز میں اضافہ اور مال کی ترسیل میں تاخیر ہے۔ جب اہم سمندری راستے عدم استحکام کا شکار ہوتے ہیں تو شپنگ لائنز کی جانب سے اضافی اخراجات صارفین تک منتقل کیے جاتے ہیں، جس سے اشیا کی قیمتوں پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔
پاکستان کی تجارت کا بڑا حصہ بحیرہ عرب اور اس سے منسلک آبی گزرگاہوں سے ہو کر گزرتا ہے، اس لیے خطے کی سلامتی ملکی معیشت کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ یورپی منڈیوں کو مال بھیجنے والے پاکستانی برآمد کنندگان کو اب سویز کینال کے بجائے طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔
آپ کو کیا قدم اٹھانا چاہیے؟
اگر آپ کی کوئی کھیپ یا مال اس وقت سمندر میں سفر کر رہا ہے یا آپ مشرق وسطیٰ کے راستے تجارت کا ارادہ رکھتے ہیں، تو آپ کو فوری طور پر یہ اقدامات کرنے چاہئیں:
- اپنی کارگو انشورنس کا جائزہ لیں اور یقینی بنائیں کہ اس میں جنگی خطرات کا احاطہ موجود ہو۔
- اپنے فریٹ فارورڈر سے مسلسل رابطے میں رہیں تاکہ جہاز کی درست پوزیشن کا علم ہو سکے۔
- یورپی راستوں سے آنے والی درآمدات کے لیے ترسیل کے طویل اوقات کو ذہن میں رکھیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
بین الاقوامی میری ٹائم تنظیموں اور متعلقہ اداروں کی طرف سے جاری ہونے والی سکیورٹی ایڈوائزریز پر گہری نظر رکھیں۔ علاقائی بحری فورسز سکیورٹی اسکواڈز میں اضافہ کر سکتی ہیں، جس سے حالات کچھ بہتر ہونے کی توقع ہے۔ تاہم، یمن کے تنازع کا مستقل حل نکلنے تک سمندری راستے غیر یقینی کا شکار رہیں گے۔
