بھارتی حکام نے 15 اگست 2024 کو منائے جانے والے بھارت کے یوم آزادی سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کرتے ہوئے نگرانی اور تلاشی کا عمل تیز کر دیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات
انتظامیہ نے پورے خطے کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ سری نگر اور دیگر اضلاع میں اہم شاہراہوں پر اضافی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ مسافروں کو سخت شناختی عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے اور نجی گاڑیوں کی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی ہے۔ نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ 15 اگست 2024 کے موقع پر کسی بھی قسم کے احتجاج یا مظاہرے کو روکا جا سکے۔
نگرانی اور نقل و حرکت پر پابندیاں
جسمانی چیک پوسٹوں کے علاوہ نگرانی کے نظام کو بھی جدید اور سخت بنایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حکام ڈرونز کے ذریعے عوامی مقامات کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل نگرانی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی آن لائن سرگرمی یا مواصلات کو روکا جا سکے جو ریاست کے بیانیے کے لیے چیلنج بن سکے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ فضا خوفزدہ ہے اور سرکاری تنصیبات کے قریب نقل و حرکت پر غیر اعلانیہ پابندیاں عائد ہیں۔
مقامی آبادی پر اثرات
عام شہریوں کے لیے یہ اقدامات روزمرہ کی زندگی میں مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔ سیکیورٹی حصار کی وجہ سے ضروری خدمات تک رسائی محدود ہو گئی ہے، جبکہ مسلسل نگرانی کے نفسیاتی دباؤ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ کاروباری مراکز میں گاہکوں کی آمدورفت کم ہو گئی ہے کیونکہ شہری ہراساں کیے جانے کے خوف سے گھروں تک محدود رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
آئندہ کے حالات پر نظر
جیسے جیسے 15 اگست 2024 قریب آ رہا ہے، خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکام انٹرنیٹ کی بندش یا مواصلاتی رابطوں کو مزید محدود کر سکتے ہیں، جو ماضی میں بھی ایسے مواقع پر کیے جاتے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ علاقے میں جاری صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم سیکیورٹی کا شکنجہ بدستور سخت ہے۔ تازہ ترین صورتحال کے لیے مقامی خبروں پر نظر رکھیں۔
