بھارتی مردوں کی ہاکی ٹیم کے کپتان ہرمن پریت سنگھ کا کہنا ہے کہ ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ سے پہلے ٹیم بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اترنے کے لیے تیار ہے اور اسکواڈ میں اتحاد اور اعتماد عروج پر ہے۔ بنگلورو میں جاری ٹریننگ کیمپ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اسٹار پلئیر نے اس بات پر زور دیا کہ طویل سیشنز اور حکمت عملی کی تیاری نے ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستانی ہاکی کے شائقین جو روایتی حریفوں پر نظر رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ پیشرفت خطرے کی گھंटी سے کم نہیں۔

بنگلورو میں سخت ٹریننگ سیشنز

بھارتی کیمپ نے عالمی ٹورنامنٹ سے قبل پینल्टी کارنر کے استعمال اور دفاعی لائن کو مضبوط بنانے پر کئی ہفتے صرف کیے ہیں۔ ہرمن پریت نے واضح کیا کہ ڈومیسٹک ٹریننگ کیمپوں کے دوران کھلاڑیوں کی باہمی مفاہمت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس قسم کی پیشہ ورانہ تیاری وہ چیز ہے جس کا پاکستانی ہاکی فیڈریشن کو مالی مشکلات کی وجہ سے ہمیشہ سامنا رہتا ہے۔

  • کھلاڑیوں کی فٹنس اور چستی بڑھانے کے لیے خصوصی کیمپ
  • پینल्टी کارنر ایکسپرٹس کے لیے الگ سے سیشنز
  • دباؤ والے میچوں سے نمٹنے کے لیے ذہنی تربیت

جنوبی ایشیائی ہاکی پر اس کے اثرات

برصغیر کی روایتی ٹیمیں ہونے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کا مقابلہ ہمیشہ سے ہی شائقین کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ جہاں بھارت کو کارپوریٹ سیکٹر کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے، وہیں پاکستان میں قومی کھیل آج بھی بنیادی فنڈز کے لیے ترس رہا ہے۔ جب حریف کپتان اس قدر اعتماد کا اظہار کرتا ہے، تو یہ دونوں ملکوں کے درمیان کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کے فرق کو واضح کرتا ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

ٹورنامنٹ کے قریب آتے ہی آفیشل میچ شیڈول اور اسکواڈ کی تبدیلیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا حریف ٹیم کی اتنی سخت ٹریننگ میدان میں خاطر خواہ نتائج دیتی ہے یا نہیں۔

شائقین کے لیے اہم اقدامات

  • بین الاقوامی اسپورٹس چینلز پر وارم اپ میچوں کی اپڈیٹس لیں۔
  • مقامی اسپورٹس ڈیسک کے ذریعے پاکستانی ٹیم کی تیاریوں کا جائزہ لیں۔
  • اسکواڈ میں فٹنس اور انجری کی رپورٹس پر نظر رکھیں۔