بھارتی پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس حالیہ تاریخ کے غیر پیداواری ترین اجلاسوں میں سے ایک ثابت ہوا ہے، جہاں لوک سبھا 19 گھنٹے بھی فعال نہ رہ سکی اور ٹیکس دہندگان کے 175 کروڑ روپے ضائع ہو گئے۔ بھارتی پارلیمنٹ کی کارکردگی (indian parliament productivity) کا یہ بحران پڑوسی ملک میں قانون سازی اور حکومتی امور کے درمیان بڑھتے ہوئے خلیج کی عکاسی کرتا ہے۔

کارکردگی کا بحران اور اعداد و شمار

پی آر ایس (PRS) لیجسلیٹو ریسرچ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس اجلاس کے دوران قانون سازی کا عمل بری طرح متاثر ہوا۔ راجیہ سبھا، جو کہ ایوان بالا ہے، کی پروڈکٹیوٹی شرح صرف 39.17 فیصد رہی۔ پورے اجلاس کے دوران، ایوان طے شدہ وقت کے مقابلے میں کل 37 گھنٹے 49 منٹ ہی کام کر سکا۔

عام شہری کے لیے یہ اعداد و شمار محض ہندسے نہیں بلکہ سرکاری خزانے پر ایک بوجھ ہیں۔ ایک ایسے معاشی ماحول میں جہاں عوامی فلاح و بہبود کے لیے فنڈز کی سخت ضرورت ہوتی ہے، منتخب نمائندوں کی جانب سے ایوان نہ چلانا عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا ضیاع ہے۔

بھارتی پارلیمنٹ کی کارکردگی کیوں اہم ہے؟

جب کوئی قانون ساز ادارہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو بجٹ کی منظوری سے لے کر عوامی مفاد کے اہم بل تک سب کچھ تعطل کا شکار ہو جاتا ہے۔ 175 کروڑ روپے کا ضیاع صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ یہ ان وسائل کا نقصان ہے جو عام ٹیکس دہندہ ادا کرتا ہے۔

ایوان کی کارروائی میں بار بار خلل ڈالنا بھارتی سیاسی منظر نامے کا ایک معمول بن چکا ہے۔ حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کے درمیان ڈیڈ لاک کی وجہ سے ایوان کی کارروائی معطل کر دی جاتی ہے، جس پر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قانون سازی کا عمل سیاسی رسہ کشی کی نذر ہو رہا ہے۔

مستقبل میں کیا متوقع ہے؟

مستقبل میں مبصرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا پارلیمانی اجلاسوں کے انتظام میں کوئی اصلاحات لائی جائیں گی یا نہیں۔ بنیادی تشویش یہ ہے کہ کیا آئندہ اجلاسوں میں ایسے سخت ضابطے نافذ کیے جائیں گے جن سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وقت کا استعمال بحث و مباحثے کے لیے ہو، نہ کہ ہنگامہ آرائی کے لیے۔

شہری اور پالیسی ماہرین اب پارلیمانی وقت کے استعمال کا شفاف احتساب کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگر کم کارکردگی کا یہ رجحان برقرار رہا، تو انتخابی یا طریقہ کار میں اصلاحات کے لیے دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، کیونکہ ایسے اجلاسوں کی مالی اور جمہوری قیمت عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔