بھارتی پارلیمنٹ کے indian parliament monsoon session میں اپوزیشن جماعتوں کے شدید ہنگامے کے بعد ایوان کی کارروائی پیر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ اپوزیشن ارکان نے وزیر داخلہ امت شاہ کی ایوان میں عدم موجودگی پر حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔
اپوزیشن کا مطالبہ کیا ہے؟
اپوزیشن ارکان ایوان میں نعرے بازی کر رہے ہیں کہ وزیر داخلہ ایوان میں آ کر جواب دیں۔ کانگریس کے سینئر رہنما کے سی وینوگوپال نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ جب مانسون اجلاس کے اختتام میں صرف 4 دن باقی رہ گئے ہیں تو امت شاہ پارلیمنٹ کیوں نہیں آ رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اہم قومی مسائل پر بحث سے فرار اختیار کر رہی ہے۔
قانون سازی کا عمل متاثر
اپوزیشن کے اس احتجاج کی وجہ سے پارلیمنٹ کا کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حکومتی وزراء ایوان میں معمول کی کارروائی چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اپوزیشن کے شور شرابے کے باعث اسپیکر کو بار بار اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ اس تعطل کی وجہ سے کئی اہم بلز اور زیر التواء امور پر بحث نہیں ہو پا رہی، جس سے حکومتی ایجنڈے کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
آگے کیا ہونے کا امکان ہے؟
اب تمام تر نظریں پیر کے روز ہونے والے اجلاس پر مرکوز ہیں۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار رہتا ہے تو موجودہ مانسون سیشن کے بے نتیجہ ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومت کو اپنی ساکھ بچانے کے لیے اپوزیشن سے بات چیت کرنی پڑے گی، ورنہ پارلیمانی کارروائی مزید تعطل کا شکار ہو سکتی ہے۔ پیر کی صبح ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی صورتحال واضح ہو جائے گی کہ آیا حکومت اپوزیشن کو منانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔
