بھارت کی ریاست جھارکھنڈ میں جاری jharkhand recruitment exam protests پیر کے روز اس وقت شدت اختیار کر گئے جب ہزاروں طلبا نے سرکاری بھرتیوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ریاستی اسمبلی کی جانب مارچ کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ بھرتی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کی جائیں۔

احتجاج کی شدت میں اضافہ

پیر کو صورتحال اس وقت کشیدہ ہوئی جب طلبا نے اسمبلی کی عمارت کی جانب پیش قدمی کی، جس کے باعث دارالحکومت میں ٹریفک اور معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔ کئی طلبا بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت جب تک امتحانات کو دوبارہ منعقد کرنے یا نتائج کا شفاف آڈٹ کرنے کا وعدہ نہیں کرتی، وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

طلبا کا کہنا ہے کہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور انتظامی کوتاہیوں نے ان کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ یہ امتحانات لاکھوں نوجوانوں کے لیے سرکاری نوکری حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہیں، اسی لیے بے ضابطگیوں کی خبروں نے طلبا میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔

طلبا کے مطالبات

یہ احتجاج صرف ایک امتحان تک محدود نہیں بلکہ انتظامی احتساب کے وسیع تر مطالبات پر مبنی ہے۔ طلبا کے اہم مطالبات درج ذیل ہیں:

  • مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات۔
  • جن امتحانات میں دھاندلی ثابت ہو، انہیں منسوخ کرنا۔
  • میرٹ لسٹ کے اجراء کے لیے واضح ٹائم لائن کا اعلان۔
  • پرچے لیک ہونے سے روکنے کے لیے فول پروف سیکیورٹی کا انتظام۔

مستقبل کے اثرات

ریاستی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور حکومت پر شدید دباؤ ہے کہ وہ طلبا کے خدشات کو دور کرے۔ انتظامیہ نے سرکاری عمارتوں کے ارد گرد سیکیورٹی سخت کر دی ہے، تاہم طلبا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا حکومت طلبا رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کرتی ہے یا مزید سخت اقدامات اٹھاتی ہے۔