انڈونیشیا میں قدرتی آفات کا ایک اور بڑا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جہاں محض 12 گھنٹوں کے اندر دو طاقتور زلزلے آنے سے اب تک کم از کم 38 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس انڈونیشیا زلزلہ کے نتیجے میں متعدد رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں اور کئی علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام مکمل طور پر معطل ہو چکا ہے۔ ریسکیو ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن مواصلات کی خرابی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔
جرمن ریسرچ سینٹر فار جیوسائنسز (جی ایف زیڈ) کے مطابق شمالی سماٹرا کے قریب آنے والے پہلے زلزلے کی شدت 6.8 ریکارڈ کی گئی جو کہ 163 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا تھا۔ اتنی گہرائی کے باوجود اس کے شدید جھٹکے وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے جس سے عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلے میدانوں کی طرف نکل آئے۔
سماٹرا کے بعد انڈونیشیا کے جزیرے فلوریس کے قریب ایک اور شدید زلزلہ آیا جس کی شدت 7.7 بتائی گئی ہے۔ فلوریس کے علاقے میں اس زلزلے کے باعث کم از کم 20 افراد کے جاں بحق اور 6 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان مسلسل دو بڑے زلزلوں نے ملک کے نظامِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور اسپتالوں میں ایمرج نافذ کر دی گئی ہے۔
امدادی سرگرمیاں اور نقصان کا تخمینہ
زلزلے کے بعد کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے کیونکہ سڑکوں پر مٹی کے تودے اور پہاڑی ملبہ گر گیا ہے۔ حکومت نے ریسکیو ٹیموں کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے دور دراز علاقوں میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔
آگے کیا ہوگا
زلزلہ پیما مرکز نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں مزید آفٹر شاکس آ سکتے ہیں، اس لیے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انڈونیشیا کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی جلد ہی نقصان کی حتمی رپورٹ جاری کرے گی جبکہ بین الاقوامی برادری نے بھی متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے امداد کی پیشکش کی ہے۔
