حیدرآباد میں حکام نے ایک انڈونیشین خاتون کو بازیاب کروا لیا ہے جسے شادی کا جھانسہ دے کر پاکستان بلایا گیا اور مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھا گیا تھا۔ متاثرہ خاتون، جن کی شناخت اندا مرلین کے نام سے ہوئی ہے، کو ان کے شوہر نے گھر میں قید کر رکھا تھا اور ان کا پاسپورٹ سمیت دیگر تمام قانونی دستاویزات بھی قبضے میں لے لی تھیں تاکہ وہ ملک سے باہر نہ جا سکیں۔

حیدرآباد میں بازیاب ہونے والی انڈونیشین خاتون کا معاملہ

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب خاتون کی جانب سے مدد کی اپیل کی گئی، جس کے بعد پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں بازیاب کروایا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ملزم نے خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر پاکستان بلایا لیکن یہاں لانے کے بعد انہیں گھر میں قید کر دیا گیا۔ پاسپورٹ اور سفری دستاویزات چھین لینے کا مقصد یہ تھا کہ خاتون کسی بھی طرح اپنے ملک واپس نہ جا سکیں اور نہ ہی سفارت خانے سے رابطہ کر سکیں۔

قانونی کارروائی اور مستقبل کے اقدامات

اس واقعے نے پاکستان میں غیر ملکی شہریوں کے ساتھ ہونے والی دھوکہ دہی اور انسانی سمگلنگ کے خطرات کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔ ملزم کے خلاف حبسِ بے جا میں رکھنے اور پاسپورٹ چھیننے کی دفعات کے تحت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ملزم کسی بڑے گروہ کا حصہ تو نہیں جو غیر ملکی خواتین کو نشانہ بناتا ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

انڈونیشین خاتون بازیاب ہونے کے بعد اب انہیں حکام کی تحویل میں رکھا گیا ہے اور ان کی انڈونیشین سفارت خانے سے رابطہ کاری کی جا رہی ہے۔ سفارت خانے کی معاونت سے خاتون کی جلد از جلد وطن واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اگر آپ کو اپنے اردگرد غیر ملکی شہریوں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی یا زبردستی قید کا علم ہو، تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا ایف آئی اے کے ہیومن ٹریفکنگ سیل کو مطلع کریں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کیس میں متاثرہ خاتون کو مکمل تحفظ فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد باعزت طریقے سے اپنے وطن واپس جا سکیں۔