سیالکوٹ کے مختلف علاقوں میں منگل کے روز پیش آنے والے دو الگ الگ افسوسناک حادثات میں 15 ماہ کی کمسن بچی جاں بحق جبکہ 9 سالہ لڑکا شدید زخمی ہو گیا۔ ان دل دہلا دینے والے واقعات نے ایک بار پھر گھروں میں بجلی کی غیر محفوظ وائرنگ اور ناقص انتظامات کے سنگین خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق دونوں حادثات چند گھنٹوں کے وقفے سے پیش آئے جن کے نتیجے میں اہل خانہ پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں اور عوامی سطح پر بجلی کے حفاظتی اصولوں پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سیالکوٹ کے دردناک واقعات کی تفصیلات
پہلا حادثہ اس وقت پیش آیا جب 15 ماہ کی معصوم بچی گھر کے اندر کسی کھلے اور غیر محفوظ بجلی کے آلے کی زد میں آ گئی۔ اہل خانہ اسے فوری طور پر قریبی اسپتال لے کر دوڑے لیکن ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکی تھی۔ دوسرے واقعے میں نو سالہ بچہ اپنے محلے میں بجلی کے ایک کھلے باکس کے قریب کھیلتے ہوئے شدید کرنٹ لگنے سے جھلس گیا۔ ریسکیو 1122 کے عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمی بچے کو مقامی اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹرز اس کا علاج کر رہے ہیں۔
بدقسمتی سے، پنجاب کے گھنی آبادی والے محلوں میں کمسن بچوں کے ساتھ ایسے جان لیوا حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ گھروں کے اندر کھلے ہوئے جکشن باکسز، لٹکتی ہوئی تاریں اور خراب ایکسٹینشن کورڈز اکثر رینگنے والے بچوں اور ناسمجھ صغار سن کے لیے موت کا جال بن جاتے ہیں۔ بجلی کی فراہمی کمپنیاں اکثر ٹرانسفارمرز اور غیر محفوظ کھمبوں کی درستگی میں ناکام رہتی ہیں جبکہ زمینی سطح پر کوئی حفاظتی مہم بھی نظر نہیں آتی۔
اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے آپ کو کیا کرنا چاہیے
آپ بجلی کی سپلائی کرنے والی کمپنیوں یا مقامی انتظامیہ کے رحم و کرم پر نہیں بیٹھ سکتے۔ اپنے گھر کے اندر فوری طور پر اقدامات کریں تاکہ کسی بھی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔
- اپنے گھر کے مین ڈسٹری بیوشن بورڈ میں ارتھ لیکج سرکٹ بریکرز (RCCB) لازمی انسٹال کروائیں تاکہ کسی بھی فالٹ کی صورت میں بجلی فوری منقطع ہو جائے۔
- گھر کے تمام بجلی کے ساکٹس پر حفاظتی کور یا کیپس لگائیں، خاص طور پر اگر گھر میں چھوٹے بچے موجود ہوں جو چیزوں کو منہ میں ڈالتے ہیں۔
- موبائل چارجرز، ایکسٹینشن لیڈز اور ملٹی پلگز بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں اور ان کی تاروں کا باقاعدہ معائنہ کریں۔
- بچوں کو کبھی بھی بجلی کے کھمبوں، گراؤنڈ ٹرانسفارمرز یا بارش کے دنوں میں لٹکتی ہوئی تاروں کے قریب نہ جانے دیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
سیالکوٹ کی ضلعی انتظامیہ نے ایسے حادثات کے بعد بعض اوقات حفاظتی اقدامات کا وعدہ کیا ہے لیکن عملی طور پر تحقیقاتی کاغذی کارروائیوں کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اس معاملے پر گیسکو اور مقامی بلدیاتی اداروں کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات پر نظر رکھیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے علاقے کے نمائندوں پر زور دیں کہ وہ گلی محلوں میں لٹکتی ہوئی خطرناک تاروں کو فی الفور درست کروائیں۔
