پاکستان میں مہنگائی کی شرح جولائی میں کم ہو کر 9.2 فیصد پر آ گئی ہے، جو گزشتہ تین سالوں میں پہلی بار سنگل ڈیجٹ میں داخل ہوئی ہے۔ اگرچہ ادارہ شماریات (PBS) کے اعداد و شمار معیشت میں ٹھہراؤ کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن لاہور، کراچی اور راولپنڈی کے بازاروں میں عام آدمی کے لیے صورتحال بدستور مشکل ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9.2 فیصد کیوں محسوس نہیں ہو رہی؟
اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ آپ کے ماہانہ راشن کا بل کم کیوں نہیں ہوا، تو اس کی وجہ 'ہیڈلائن انفلیشن' اور آپ کی 'ذاتی مہنگائی' کا فرق ہے۔ 9.2 فیصد کا یہ اعداد و شمار ان تمام چیزوں کا اوسط ہے جن میں ایندھن سے لے کر کپڑے تک شامل ہیں۔ اگرچہ بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں معمولی استحکام آیا ہے، لیکن گندم، سبزیوں اور دالوں جیسی اشیاء کی قیمتیں دو سال کی بلند ترین سطح پر ہیں۔
جب آپ بازار جاتے ہیں تو آپ 'اشیاء کی ٹوکری' نہیں خریدتے، بلکہ آپ وہی چیزیں خریدتے ہیں جو ابھی بھی مہنگی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار میں ایندھن اور بجلی کا وزن زیادہ ہوتا ہے، لیکن باورچی خانے کا بجٹ ان چیزوں سے متاثر ہوتا ہے جو ابھی بھی مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہیں۔
توانائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کا اثر
مہنگائی میں یہ کمی بنیادی طور پر توانائی کی قیمتوں میں معمولی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ جب حکومت اوگرا (OGRA) یا نیپرا (NEPRA) کے ذریعے بجلی یا پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل کرتی ہے، تو اس کا اثر سی پی آئی پر فوراً نظر آتا ہے۔ تاہم، ٹرانسپورٹ کے اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے، کھیت سے منڈی تک سامان پہنچانے کی لاگت میں کوئی خاص کمی نہیں آئی، جس کی وجہ سے خوردہ قیمتیں برقرار ہیں۔
- ایندھن کی قیمتیں: عالمی منڈی اور مقامی ٹیکسوں کی وجہ سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔
- بجلی: استعداد کار کے چارجز (Capacity Charges) کی وجہ سے بلوں میں کمی کے امکانات کم ہیں۔
- خوراک: سپلائی چین کے مسائل مہنگائی کی بنیادی وجہ ہیں۔
اپنے بجٹ کو سنبھالنے کے لیے کیا کریں؟
راستوں میں فوری بہتری کی امید نہ رکھیں۔ 9.2 فیصد کا مطلب یہ ہے کہ قیمتوں کے بڑھنے کی رفتار سست ہوئی ہے، نہ یہ کہ قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔ آپ کے اخراجات کم نہیں ہوں گے، بس ان کے بڑھنے کی رفتار گزشتہ سال کی نسبت کم رہے گی۔
غیر ضروری اخراجات کو محدود کریں۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود زیادہ رکھنے کے امکانات ہیں، اس لیے ذاتی قرضوں یا کریڈٹ کارڈ کے استعمال سے گریز کریں۔ اپنے قرضوں کو جلد از جلد چکانے کی کوشش کریں تاکہ معاشی دباؤ سے بچا جا سکے۔
آگے کیا ہوگا؟
اگلے پیٹرولیم قیمتوں کے جائزے اور آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ٹیکسوں میں تبدیلیوں پر نظر رکھیں۔ اگر مون سون کی بارشوں سے فصلیں متاثر ہوئیں تو اشیائے خوردونوش کی قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں، جس سے مہنگائی دوبارہ دوہرے ہندسوں میں جا سکتی ہے۔ ہفتہ وار 'سینسٹیو پرائس انڈیکس' (SPI) پر نظر رکھیں، کیونکہ یہ آپ کے روزمرہ کے اخراجات کا زیادہ درست آئینہ دار ہے۔
