وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کے روز لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا اچانک دورہ کیا تاکہ امیگریشن پر لگنے والے وقت اور مسافروں کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیا جا سکے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مسافروں کی جانب سے امیگریشن عمل میں تاخیر کی شکایات میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔

امیگریشن پر لگنے والے وقت کا جائزہ

وزیر داخلہ کا دورہ بنیادی طور پر اس بات پر مرکوز تھا کہ امیگریشن پر لگنے والے وقت کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔ محسن نقوی نے امیگریشن کاؤنٹرز کا تفصیلی معائنہ کیا اور وہاں موجود عملے سے پراسیس کے بارے میں سوالات کیے۔ انہوں نے مسافروں سے بھی براہِ راست بات چیت کی تاکہ انہیں درپیش مسائل کو سمجھا جا سکے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، اس دورے کا مقصد ایئرپورٹ پر سہولیات کو بہتر بنانا اور مسافروں کے لیے امیگریشن کے عمل کو تیز تر کرنا ہے۔

ایئرپورٹ انتظامیہ اور مسافروں کے مسائل

ایئرپورٹ پر امیگریشن کاؤنٹرز پر طویل قطاریں مسافروں کے لیے شدید کوفت کا باعث بنتی ہیں۔ وزیر داخلہ نے عملے کو ہدایت کی کہ وہ کام کے معیار کو بہتر بنائیں تاکہ مسافروں کو غیر ضروری انتظار نہ کرنا پڑے۔ حکومتی سطح پر اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایئرپورٹ کے انتظامی امور کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے تاکہ بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں کو بہتر سہولیات مل سکیں۔

مسافروں کے لیے ہدایات

اگر آپ سفر کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ایئرپورٹ پر وقت سے پہلے پہنچنا ہمیشہ بہتر رہتا ہے تاکہ امیگریشن اور سیکیورٹی چیک کے دوران کسی بھی قسم کی تاخیر سے بچا جا سکے۔ حکام کی جانب سے اس دورے کے بعد امیگریشن عملے کے لیے نئی ہدایات جاری کیے جانے کا امکان ہے تاکہ کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

آئندہ دنوں میں ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے مزید بہتری متوقع ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایئرپورٹ کے آفیشل ذرائع اور میڈیا پر آنے والی اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی تبدیلی سے بروقت آگاہ رہ سکیں۔