وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دارالحکومت میں روزانہ بڑھتے ہوئے ٹریفک کے رش کو کنٹرول کرنے کے لیے کشمیر چوک انڈر پاس اور فیصل مسجد انڈر پاس فوری طور پر بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ احکامات کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران دیے گئے، جہاں شہر بھر میں جاری اور آئندہ کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
روزانہ ان مصروف چوراہوں سے گزرنے والے شہریوں کو شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان نئے انڈر پاسز کی تعمیر سے اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی روانی بہتر ہوگی اور روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کا قیمتی وقت بچے گا۔
سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر کا جائزہ اجلاس
سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ نے شہر میں جاری تعمیراتی کاموں کی رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کام تیز کرنے پر زور دیا۔ ٹریفک ماہرین طویل عرصے سے ان چوراہوں کو ٹریفک کے بہاؤ میں بڑی رکاوٹ قرار دے رہے تھے جن کے لیے اب باقاعدہ گریڈ سیپریٹڈ حل نکالا جا رہا ہے۔
اس نئے انفراسٹرکچر منصوبے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- کشمیر چوک پر ایک نئے گریڈ سیپریٹڈ انڈر پاس کی تعمیر۔
- فیصل مسجد کے قریب ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے خصوصی انڈر پاس کا قیام۔
- گاڑیوں کے گزرنے کے راستوں کو بہتر بنانے کے لیے اردگرد کی سڑکوں کی دوبارہ ڈیزائننگ۔
- تاخیر سے بچنے کے لیے ٹھیکیداروں کے لیے سخت ڈیڈ لائنز کا نفاذ۔
شہریوں پر اثرات
اگر آپ روزانہ ان راستوں سے گزرتے ہیں تو تعمیراتی کام کے دوران آپ کو وقتی طور پر ٹریفک کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے طویل مدت میں سفری مشکلات کافی حد تک کم ہو جائیں گے۔
شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ جب باقاعدہ تعمیراتی کام کا آغاز ہو تو ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ متبادل راستوں کی ہدایات پر عمل کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
آنے والے ہفتوں میں سی ڈی اے کی جانب سے جاری ہونے والے ٹینڈرز اور تعمیراتی کمپنیوں کے ناموں کا انتظار کریں۔ حکام کی جانب سے جلد ہی متبادل راستوں کے نقشے اور پراجیکٹ کی تکمیل کی متوقع تاریخ کا اعلان بھی متوقع ہے۔ زمین کی جانچ اور یوٹیلیٹی لائنز کے جائزے کے دوران دونوں مقامات پر ٹریفک محدود کی جا سکتی ہے۔
