اسلام آباد میں جرائم کی تفتیش کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک نیا لاء انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تصدیق کی ہے کہ یہ سہولت چین کے پولیسنگ اور تفتیشی ماڈل کی طرز پر تیار کی جائے گی تاکہ تفتیشی عمل کی رفتار اور معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

لاء انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر کا قیام

یہ منصوبہ ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وزیر داخلہ نے ان جدید تکنیکوں پر تبادلہ خیال کیا جو چین میں تفتیشی نظام کو کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد روایتی تفتیشی طریقوں سے ہٹ کر سائنسی اور ڈیٹا پر مبنی نظام اپنانا ہے۔

  • پائلٹ پروجیکٹ کا مقام: اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT)۔
  • اسٹریٹجک ماڈل: چینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تکنیک۔
  • بنیادی مقصد: تفتیشی پروٹوکول اور بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا۔

چین کا ماڈل کیوں اہم ہے؟

پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے سست تفتیش اور فرانزک وسائل کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ چین کے ماڈل کو اپنانے سے وزارت داخلہ کا مقصد ثبوت اکٹھے کرنے کے عمل کو تیز کرنا، آئی سی ٹی پولیس کے مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا اور سنگین جرائم میں سزا کی شرح کو بڑھانا ہے۔

اسلام آباد کے رہائشیوں کے لیے اس کا مطلب مقدمات کا جلد حل اور پولیس کی جانب سے شکایات پر زیادہ پیشہ ورانہ رویہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ پائلٹ پروجیکٹ کامیاب رہا تو حکومت اسے دیگر بڑے شہروں میں بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

اگرچہ اس اعلان کے ساتھ ابتدائی مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے، لیکن وزارت داخلہ نے ابھی تک اس مرکز کی تعمیر یا اس کے لیے بجٹ کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ قانونی ماہرین اور شہری یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ حکومت کس طرح چینی ماڈل کو پاکستان کے مقامی قانونی ڈھانچے کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔

جیسے جیسے یہ منصوبہ منصوبہ بندی سے عملی مرحلے کی طرف بڑھے گا، اس مرکز میں تعینات ہونے والے افسران کی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی پر توجہ دی جائے گی۔ آپ کو اس مرکز کے قیام اور آپریشنل ہونے کی تاریخوں کے حوالے سے وزارت داخلہ کی جانب سے آنے والی مزید اپ ڈیٹس پر نظر رکھنی چاہیے۔