کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی ہلاکت کے کیس کی تفتیش میں اس وقت اہم پیشرفت سامنے آئی جب نئی تفتیشی کمیٹی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے میر رضا کا فون اور اسمارٹ واچ اپنی تحویل میں لے لی۔

کیس کی تفتیش میں نئی پیشرفت

تفتیشی ذرائع کے مطابق، کیس کی تحقیقات کرنے والی نئی کمیٹی نے شواہد کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مقتول کے زیر استعمال ڈیجیٹل آلات کو ایجنسی سے واپس لے لیا گیا ہے تاکہ ان کا دوبارہ فرانزک معائنہ کیا جا سکے۔ یہ اقدام اس کیس کی تہہ تک پہنچنے اور اہم کڑیوں کو جوڑنے کے لیے انتہائی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

ڈیجیٹل شواہد کی اہمیت

جدید دور کی تحقیقات میں مقتول کا موبائل فون اور اسمارٹ واچ تفتیش کاروں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ نئی کمیٹی ان آلات سے درج ذیل معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرے گی:
- کال ریکارڈز اور چیٹ ہسٹری کا تفصیلی تجزیہ۔
- مقتول کی آخری لوکیشن اور نقل و حرکت کا ڈیٹا۔
- اسمارٹ واچ میں موجود ہیلتھ ڈیٹا، جس سے دل کی دھڑکن اور جسمانی سرگرمیوں کا وقت معلوم ہو سکتا ہے۔
- کلاؤڈ میں محفوظ ڈیٹا جو واقعے کے وقت کے بارے میں اہم اشارے دے سکے۔

آگے کیا ہوگا؟

اب تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ کیا نئی فرانزک رپورٹ ابتدائی رپورٹ سے مختلف نتائج سامنے لائے گی یا نہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا کی مدد سے کیس کے محرکات کو واضح کرنے میں مدد ملے گی۔

عوام اور مقتول کے لواحقین اب اس فرانزک رپورٹ کے منتظر ہیں۔ اگر اس ڈیٹا سے کوئی نئی بات سامنے آتی ہے تو کیس کا رخ بدل سکتا ہے اور مزید افراد کو شامل تفتیش کیا جا سکتا ہے۔ ہم اس کیس سے جڑی ہر اپ ڈیٹ پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی کوئی نئی پیشرفت ہوگی، آپ کو آگاہ کیا جائے گا۔