پاکستان میں تین سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کی نجکاری کے لیے بولی لگانے والے ممکنہ خریداروں نے ایک اہم مطالبہ کیا ہے: انہیں ادائیگی پاکستانی روپے کے بجائے امریکی ڈالر میں کی جائے۔ DISCOs privatization کے اس مطالبے کا مقصد ملک میں جاری کرنسی کی قدر میں کمی اور معاشی عدم استحکام سے اپنے منافع کو محفوظ بنانا ہے۔

سرمایہ کار ڈالر میں ادائیگی کیوں چاہتے ہیں؟

یہ مطالبہ روپے کی طویل مدتی قدر پر سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد کا نتیجہ ہے۔ توانائی کے شعبے میں پہلے ہی گردشی قرضوں (circular debt) کا بحران موجود ہے، اور نجی سرمایہ کار ایسی مارکیٹ میں داخل ہونے سے گھبرا رہے ہیں جہاں ان کی آمدنی روپے کی قدر گرنے سے متاثر ہو سکتی ہے۔

اگر حکومت اس مطالبے کو مان لیتی ہے، تو اس سے یوٹیلیٹی اثاثوں کی قیمتوں کے تعین کا پورا ڈھانچہ بدل جائے گا۔ موجودہ نظام میں نیپرا (NEPRA) ٹیرف کا تعین روپے میں کرتا ہے، اور اسے ڈالر میں تبدیل کرنے کے لیے توانائی کی قیمتوں کے پورے ماڈل کو دوبارہ ترتیب دینا پڑے گا۔

عام صارف پر اثرات

عام پاکستانی کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہو سکتی ہے۔ اگر حکومت بجلی کی تقسیم کے اخراجات کو ڈالر سے منسلک کر دیتی ہے، تو روپے کی قدر میں ہر معمولی کمی کا بوجھ براہ راست صارفین کے بجلی کے بلوں پر پڑے گا۔

  • کرنسی کا خطرہ: سرمایہ کار ایندھن کی ڈالر میں قیمت اور صارفین سے روپے میں وصولی کے فرق سے پریشان ہیں۔
  • گردشی قرضے: شعبے میں موجود بھاری واجبات سرمایہ کاروں کے لیے منافع کا حصول مشکل بنا رہے ہیں۔
  • نجکاری کا عمل: حکومت ان کمپنیوں کی فروخت کو تیز کرنا چاہتی ہے، لیکن اس مطالبے سے بولی کا عمل تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

آپ کو وزارتِ توانائی کی جانب سے نجکاری کے عمل پر آنے والی بریفنگز پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر حکومت ڈالر میں ادائیگی کی شرط مانتی ہے، تو یہ درحقیقت کرنسی کے خطرے کی سرکاری ضمانت ہوگی، جس سے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اگر حکومت اس مطالبے کو مسترد کرتی ہے، تو نجکاری کا عمل تعطل کا شکار ہو سکتا ہے، جس سے سرکاری اداروں کا مالی نقصان جاری رہے گا۔