نجی سرمایہ کاروں نے پاکستان کی خستہ حال بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکو) کے لیے بولی لگانے سے پہلے حکومت سے ٹیرف کی پکی ضمانتیں مانگ لیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت سرکلر ڈیٹ کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے نجکاری کا عمل تیز کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اس شرط کا مطلب یہ ہے کہ عام صارفین کو آنے والے دنوں میں مزید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نجی سرمایہ کاروں کے مطالبات اور ان کے خطرات

ملک بھر میں کام کرنے والی بجلی کی یہ کمپنیاں لائن لاسز، بجلی چوری اور بلوں کی عدم وصولی کی وجہ سے اربوں روپے کے خسارے کا شکار ہیں۔ جب نجی کنسورشیا ان اداروں کو سنبھالنے کے لیے آگے آتے ہیں تو وہ اپنے منافع کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت سے خصوصی مراعات چاہتے ہیں۔ اگر ریاست ان مطالبات کو مان لیتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ نجی مالکان کو تو منافع کی ضمانت مل جائے گی، لیکن اس کا سارا مالی بوجھ عام صارفین کی جیب پر پڑے گا۔

  • منافع کی ضمانت: سرمایہ کار اپنے سرمائے پر کسی قسم کا نقصان برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
  • خودکار ٹیرف ایڈجسٹمنٹ: نرخوں میں اضافے کے لیے حکومتی منظوری کا نیا طریقہ کار۔
  • صارفین پر بوجھ: سسٹم کی خامیاں اور نقصانات عام عوام کے بلوں سے پورے ہوں گے۔

آپ کے ماہانہ بجلی کے بل پر اس کا اثر

پہلے ہی فیول ایڈجسٹمنٹ اور مختلف ٹیکسوں کی وجہ سے بجلی کے بل عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ اگر حکومت نے سرمایہ کاروں کو منافع کی ضمانت دے دی تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ نجکاری کے باوجود بجلی سستی نہیں ہوگی۔ نجی اجارہ داری جب ریاستی سیکیورٹی کے تحت کام کرتی ہے تو صارف دونوں طرف سے پستا ہے۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

موجودہ ملکی معاشی صورتحال اور توانائی کے شعبے میں جاری تبدیلیوں کے پیش نظر آپ کو اپنے گھر کے بجلی کے استعمال کو خود کنٹرول کرنا ہوگا۔ حکومتی فیصلوں کا انتظار کیے بغیر بجلی بچانے کے اقدامات کریں، جیسے کہ پرانے پنکھے تبدیل کرنا اور ایل ای ڈی لائٹس کا استعمال بڑھانا۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

آنے والے ہفتوں میں نجکاری کمیشن اور وزارتِ توانائی کے فیصلوں پر نظر رکھیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا حکومت عام آدمی کو ریلیف دیتی ہے یا سرمایہ کاروں کی شرائط کے سامنے سر جھکاتی ہے۔