پاکستان میں سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کی نجکاری کے عمل میں دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں نے DISCOs buyers eye dollar returns کی شرط عائد کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے ان خسارے میں چلنے والے اداروں کی فروخت کے منصوبے کے ساتھ ہی، نجی سرمایہ کاروں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ تبھی سرمایہ کاری کریں گے جب انہیں روپے کی قدر میں کمی اور مستقبل میں پالیسیوں میں تبدیلیوں کے خلاف تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
سرمایہ کار ڈالر میں منافع کیوں چاہتے ہیں؟
بین الاقوامی اور بڑے مقامی سرمایہ کاروں کے لیے بنیادی تشویش پاکستانی روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ ہے۔ ڈالر میں منافع کی مانگ کا مقصد یہ ہے کہ ان کے منافع کو مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ، سرمایہ کار قانونی ضمانتیں مانگ رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ معاہدے ہونے کے بعد کوئی بھی مستقبل کی حکومت یکطرفہ طور پر ان معاہدوں کو دوبارہ نہ کھول سکے۔
یہ مطالبات ریگولیٹری ماحول پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ سیاسی دباؤ کے تحت بجلی کے معاہدوں پر نظر ثانی کی پرانی روایت دوبارہ نہ دہرائی جائے، جس کی وجہ سے ماضی میں گردشی قرضوں اور ادائیگیوں میں تاخیر جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
نیپرا کا کردار اور ریگولیٹری چیلنجز
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) ان مذاکرات کے مرکز میں ہے۔ سرمایہ کاروں نے نیپرا کے ٹیرف طے کرنے کے طریقہ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ موجودہ ڈھانچہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے پیش گوئی کے قابل نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے شفاف اور آزاد ریگولیٹری ماحول کے خواہاں ہیں جہاں ٹیرف سیاسی مداخلت سے پاک ہوں۔
- معاہدے کا تحفظ: معاہدوں کو دوبارہ نہ کھولنے کے لیے قانونی ضمانتوں کا مطالبہ۔
- کرنسی کا خطرہ: منافع کی ڈالر میں واپسی یا انڈیکسیشن کی درخواست۔
- ریگولیٹری شفافیت: ٹیرف میں تبدیلیوں اور آپریشنل خودمختاری پر واضح اصول۔
آپ کے بجلی کے بل پر کیا اثر پڑے گا؟
اگر حکومت ان مطالبات کو تسلیم کرتی ہے، تو بجلی کے شعبے کی نجکاری کی قیمت عوام کو ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ ڈالر میں منافع کی ضمانت کا مطلب ہے کہ خطرہ نجی خریدار سے منتقل ہو کر پاکستانی ٹیکس دہندگان پر آ جائے گا۔ اگر روپے کی قدر مزید گرتی ہے تو حکومت کو ڈالر کی ادائیگیوں کو پورا کرنے کے لیے بجلی کے ٹیرف میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ آپ کے ماہانہ گھریلو بجٹ پر پڑے گا۔
آگے کیا ہوگا؟
پرائیویٹائزیشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والی نیلامی کی دستاویزات پر نظر رکھیں۔ حکومت اس وقت غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور طویل مدتی مالیاتی ذمہ داریوں سے بچنے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر ریاست ان شرائط کو مان لیتی ہے، تو نجکاری تو ہو جائے گی لیکن اس سے ملک طویل عرصے کے لیے مہنگے توانائی کے معاہدوں میں جکڑا جا سکتا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے پرائیویٹائزیشن کمیشن کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔
