جب نجی سرمایہ کار سرکاری بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکو) کے لیے بولی لگانے سے پہلے ٹیرف کی ضمانتوں کا مطالبہ کرتے ہیں، تو اس کا براہ راست اثر آپ کے ماہانہ بجلی کے بجٹ پر پڑتا ہے۔ حکومت طویل عرصے سے تاخیر کا شکار بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے ایجنڈے پر آگے بڑھ رہی ہے، لیکن کارپوریٹ خریداروں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ریاست کی مالی معاونت کی یقین دہانیوں کے بغیر خسارے میں چلنے والے یوٹیلیٹی نیٹ ورکس کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے۔ ایک عام پاکستانی کے لیے، جو پہلے ہی بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، اس کارپوریٹ مطالبے کا مطلب یہ ہے کہ بجلی کے نرخوں میں کمی کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو معاشی مینیجرز نے سرکلر ڈیٹ کے ناسور سے نجات کا واحد ذریعہ قرار دیا ہے۔ تاہم، ریجنل گرڈز خریدنے کے خواہشمند نجی کنسورشیا لیسکو، کے الیکٹرک یا حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی جیسے نیٹ ورکس میں موجود ٹرانسمیشن کے بھاری نقصانات اور بجلی چوری کے بوجھ کو بغیر کسی مالی حفاظتی حصار کے اٹھانے سے انکاری ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ نیپرا اور وفاقی حکومت بولی لگانے سے پہلے سرمایہ کاری پر منافع اور نظام کے نقصانات کے لیے خودکار ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی ضمانت دیں۔

سرمایہ کار کیا چاہتے ہیں اور آپ کے بٹوے کے لیے یہ کیوں اہم ہے

کارپوریٹ بولی دہندگان دراصل ریاست سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سرکاری اثاثے سنبھالنے سے پہلے ان کے کاروباری خطرات کی ذمہ داری لی جائے۔ اگر حکومت ان خریداروں کو راغب کرنے کے لیے یہ ٹیرف کی ضمانتیں دیتی ہے، تو صارفین کو زیادہ بیس ٹیرف اور مسلسل سرچارجز کی صورت میں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ یہاں ان مطالبات کے آپ کی گھریلو مالیات پر اثرات کا جائزہ پیش ہے:

  • منافع کے طے شدہ مارجن: سرمایہ کار وصولی کی کارکردگی سے قطع نظر قانونی طور پر محفوظ منافع چاہتے ہیں۔
  • نقصانات سے تحفظ: ریاست یا صارفین کو اب بھی بجلی چوری اور لائن لاسز کا خرچ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
  • فوری ریلیف نہیں: بجلی کے بلوں میں کمی کا کوئی امکان نہیں کیونکہ نجی مالکان اپنے مطلوبہ مارجن کو براہ راست صارفین کے ٹیرف میں شامل کریں گے۔

جب یوٹیلیٹی کمپنیاں ریاستی تحفظ یا ضمانتی ریونیو ماڈلز کے تحت کام کرتی ہیں، تو مارکیٹ کا وہ مسابقتی ماحول جس سے قیمتیں کم ہونی چاہئیں، یکسر ختم ہو جاتا ہے۔ نئے نجی مینیجرز کو اپنی جیب سے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور بدعنوانی کے خاتمے پر مجبور کرنے کے بجائے، یہ ضمانتیں مالی بوجھ کو واپس بل ادا کرنے والے عام عوام پر منتقل کر دیتی ہیں۔

بجلی کے شعبے کی نجکاری میں ساختیاتی مسئلہ

پاکستان کے پاور سیکٹر کو درپیش بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ڈسکو کمپنیاں دہائیوں پرانی سیاسی مداخلت، ضرورت سے زیادہ عملے اور بوسیدہ گرڈز کی وجہ سے مالیاتی دلدل بنی ہوئی ہیں۔ سرمایہ کار جانتے ہیں کہ ہائی لاس سرکلز میں واجبات کی وصولی سیاسی طور پر حساس اور قانونی طور پر مشکل ہے۔ ٹیرف کی ضمانتیں مانگ کر وہ خود کو ان عملی چیلنجز سے بچا رہے ہیں جنہیں حل کرنے کے لیے انہیں لایا جا رہا ہے۔

پرائیویٹائزیشن کمیشن بین الاقوامی قرض دہندگان کو خوش کرنے کے لیے ان فروخت کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے باوجود، ہچکچاہٹ کا شکار خریداروں کو راغب کرنے کے لیے اٹھایا جانے والا ہر قدم عام صارفین کی قیمت پر کارپوریٹ بیلنس شیٹس کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر آپ کو یہ امید تھی کہ نجی مینجمنٹ کا مطلب خود بخود کم بل اور بہتر سروس ہو گا، تو یہ مطالبات اس کے برعکس ثابت کرتے ہیں۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے

چونکہ بجلی کے ٹیرف بلند رہیں گے اور کارپوریٹ و ریاستی مفادات کے زیر اثر رہیں گے، اس لیے آپ کو اپنی ماہانہ بچت کی حفاظت کے لیے بجلی کی کھپت کو خود منظم کرنا ہوگا۔ یہاں کچھ عملی اقدامات دیئے گئے ہیں:

  • اپنے گھریلو آلات کا جائزہ لیں اور پرانے، زیادہ واٹ کے پنکھوں اور روایتی روشنیوں کو انورٹر ٹیکنالوجی سے بدلیں۔
  • اپنی مقامی ڈسکو کی طرف سے مقرر کردہ پیک آورز کا خیال رکھیں اور واشنگ مشین اور پانی کے پمپ جیسے بھاری آلات کو پیک آورز کے علاوہ چلائیں۔
  • اپنے ماہانہ بلوں پر چھپے ہوئے سرچارجز کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور میٹر ریڈنگ میں کسی بھی تضاد کی فوری طور پر اپنے مقامی ڈسکو آفس میں شکایت کریں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

پرائیویٹائزیشن کمیشن کے طے کردہ بولی کے نظام الاوقات اور کثیر سالہ ٹیرف کے حوالے سے نیپرا کے سرکاری اعلانات پر گہری نظر رکھیں۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا حکومت تمام سرمایہ کاروں کے آگے گھٹنے ٹیکتی ہے یا کارکردگی سے مشروط شقیں طے کرتی ہے جو عوام کا تحفظ کریں۔ جب تک کوئی شفاف نظام سامنے نہیں آتا، یہ فرض کر لیں کہ جب تک نجی سرمایہ پاکستان کی توانائی کی مارکیٹ میں زیرو رسک انٹری کا مطالبہ کرے گا، آپ کے بجلی کے بل زیادہ رہیں گے۔