پاکستان میں iphone 18 pro price اور اس کی دستیابی پر DRAM کی عالمی قلت کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جو لانچ سے چند ہفتے قبل ہی ایپل کی پروڈکشن کو شدید متاثر کر رہی ہے۔

9to5mac اور Culpium کی رپورٹس کے مطابق، ایپل کو اپنے فلیگ شپ فونز کے لیے درکار میموری کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستانی صارفین، جو اکثر امپورٹڈ فونز پر انحصار کرتے ہیں، انہیں اس قلت کے باعث یا تو فون کی عدم دستیابی کا سامنا کرنا پڑے گا یا پھر مارکیٹ میں بھاری پریمیم قیمت ادا کرنی ہوگی۔

DRAM کی قلت کا اثر

فون کی کارکردگی کے لیے درکار ہائی اسپیڈ میموری کی سپلائی میں کمی کا مطلب ہے کہ ایپل اپنی پہلی کھیپ کو صرف بڑے عالمی مارکیٹوں تک محدود رکھے گا۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں پہلے ہی درآمدی ڈیوائسز پر بھاری ٹیکس لاگو ہیں، یہ قلت قیمتوں کو مزید بڑھا دے گی۔ اگر آپ لانچ کے فوراً بعد فون خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو آپ کو بہت زیادہ قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

کیا یہ اپ گریڈ فائدہ مند ہے؟

اگر آپ آئی فون 15 پرو یا 16 پرو استعمال کر رہے ہیں، تو آئی فون 18 پرو کی کارکردگی میں بہتری آپ کو روزمرہ استعمال میں شاید ہی محسوس ہو۔ پی ٹی اے (PTA) ٹیکسوں کے ساتھ، اس فون کی قیمت پاکستان میں عام صارف کی قوتِ خرید سے بہت اوپر جا سکتی ہے۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

  1. ایپل کی آفیشل ویب سائٹ پر لانچ کی تاریخ پر نظر رکھیں۔
  2. پی ٹی اے کے آفیشل پورٹل پر ٹیکس کی تازہ ترین شرح کا حساب لگائیں۔
  3. اگر فوری ضرورت نہیں ہے، تو لانچ کے چند ماہ بعد تک انتظار کریں تاکہ مارکیٹ میں قیمتیں مستحکم ہو سکیں۔

نئے آئی فون کی پاکستان میں آمد اور ٹیکس کی صورتحال کے بارے میں تازہ ترین معلومات کے لیے 'نیا پاکستان' کے ٹیک سیکشن کو فالو کرتے رہیں۔