آئی فون 18 میں ریم کی اپ گریڈ (iphone 18 ram upgrade) کا معاملہ ٹیکنالوجی کے حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ تجزیہ کار جیف پو کے مطابق، ایپل اپنے معیاری ماڈل میں ریم کو 8 جی بی سے بڑھا کر 12 جی بی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ تبدیلی صارفین کے لیے فون کی رفتار اور ملٹی ٹاسکنگ کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔

ریم میں اضافہ کیوں ضروری ہے؟

پاکستان میں موجود وہ صارفین جو اپنے فون کو بھاری گیمنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ اور پیشہ ورانہ کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے ریم کا بڑھنا ایک بڑی خوشخبری ہے۔ زیادہ ریم کا مطلب ہے کہ آپ کے ایپس پس منظر میں بند نہیں ہوں گے اور فون کا مجموعی تجربہ زیادہ رواں رہے گا۔ جیسے جیسے ایپس بھاری ہو رہی ہیں، 12 جی بی ریم فون کو طویل عرصے تک کارآمد رکھے گی۔

اے آئی اور کارکردگی پر اثرات

ماہرین کا ماننا ہے کہ ایپل یہ قدم مصنوعی ذہانت (AI) کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر اٹھا رہا ہے۔ آن ڈیوائس اے آئی فیچرز کو چلانے کے لیے زیادہ میموری کی ضرورت ہوتی ہے۔ 12 جی بی ریم کے ساتھ، آئی فون 18 پیچیدہ اے آئی ٹاسک کو کلاؤڈ پر انحصار کیے بغیر براہ راست ڈیوائس پر پروسیس کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔

آگے کیا دیکھنا چاہیے؟

اگرچہ بنیادی ماڈل میں 12 جی بی ریم کی توقع ہے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا پرو ماڈلز میں اس سے بھی زیادہ ریم دی جائے گی۔ ایپل کی اگلی بڑی لانچ ستمبر 2026 میں متوقع ہے۔ پاکستان میں درآمدی ٹیکسوں اور ڈالر کی قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان فونز کی قیمتیں کافی زیادہ ہو سکتی ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کا موجودہ فون ٹھیک کام کر رہا ہے، تو فوری طور پر نیا فون خریدنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ پاور یوزر ہیں اور آپ کو فون کی کارکردگی میں کمی محسوس ہو رہی ہے، تو ستمبر 2026 تک انتظار کرنا ایک بہتر فیصلہ ہو سکتا ہے۔ مقامی مجاز ڈیلرز سے قیمتوں اور پری آرڈر کی تفصیلات پر نظر رکھیں۔