ایران نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ مارچ 2026 میں قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے فضائیہ کے تین پائلٹس اس وقت قطری فورسز کی تحویل میں ہیں۔ ایرانی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے جاری کردہ بیان کے بعد علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جس پر تہران نے انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی (ICRC) سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تینوں پائلٹس قطری سرزمین پر امریکی تنصیبات پر ہونے والے سیکیورٹی واقعے کے بعد سے لاپتہ تھے، اور اب تہران کو مصدقہ اطلاعات ملی ہیں کہ وہ قطری سیکیورٹی فورسز کی حراست میں ہیں۔ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے یہ پیش رفت سفارتی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ خلیجی ممالک اور ایران کے تعلقات میں تناؤ کا اثر پورے خطے کی سلامتی پر پڑتا ہے۔
مارچ کے حملے اور لاپتہ پائلٹس کا پس منظر
اس پورے واقعے کی جڑیں مارچ 2026 کے اس سیکیورٹی واقعے سے جڑی ہیں جب قطر میں قائم امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد خطے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی تھی اور متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کے تینوں پائلٹس اسی دوران قطری فورسز کے ہاتھ لگے اور انہیں اب تک منظر عام پر نہیں لایا گیا۔
موجودہ صورتحال کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- لاپتہ ہونے والے تینوں افراد ایرانی فضائیہ کے پائلٹس ہیں۔
- ان کی گمشدگی کا تعلق مارچ 2026 میں قطر کے امریکی فوجی اڈے پر ہونے والے حملے سے ہے۔
- ایران نے پہلی بار باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ یہ پائلٹس قطری حراست میں ہیں۔
- تہران نے ریڈ کراس سے فوری رسائی اور طبی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
ریڈ کراس سے فوری مداخلت کی اپیل
ایرانی حکام نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے ریڈ کراس پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر قطر میں موجود ان پائلٹس تک رسائی حاصل کرے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ زیر حراست افراد کے اہل خانہ کو ان کی خیریت کے بارے میں جاننے کا حق حاصل ہے اور عالمی اداروں کو اس معاملے میں خاموشی نہیں توڑنی چاہیے۔
قارئین کو اس معاملے پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ قطر کی جانب سے تاحال اس دعوے پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ جیسے ہی انٹرنیشنل ریڈ کراس یا قطری وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی نیا بیان جاری کیا جائے گا، ہم آپ کو باخبر رکھیں گے۔
