ایران نے قطر میں مبینہ طور پر قید کیے گئے اپنے تین پائلٹوں کی فوری رہائی کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، قطری سکیورٹی فورسز نے Su-24 لڑاکا طیاروں کو پیش آنے والے حادثات کے بعد ان تینوں پائلٹوں کو زندہ حراست میں لے لیا تھا، جن کی واپسی کے لیے اب تہران کی جانب سے سفارتی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں عسکری اور سفارتی کشیدگی عروج پر ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ پائلٹس معمول کی پروازوں پر تھے اور تکنیکی خرابی یا فضائی مشکلات کے باعث انہیں حادثات کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے انہیں بغیر کسی تاخیر کے واپس کیا جائے۔
Su-24 طیاروں کے حادثات کا پس منظر
یہ سارا معاملہ ایرانی ساختہ یا زیر استعمال سوخو Su-24 بمبار طیاروں کے حادثات کے گرد گھومتا ہے۔ خلیجی فضائی حدود میں پیش آنے والے ان فضائی نقصانات کے بعد قطری فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عملے کو گرفتار کر لیا تھا۔ عسکری ماہرین کے مطابق پائلٹوں کو زندہ گرفتار کیا جانا دونوںممالک کے درمیان ایک حساس سفارتی مسئلہ بن چکا ہے۔
خلیج میں سفارتی سرگرمیاں تیز
قطر اور ایران کے درمیان گیس کے وسیع ذخائر مشترکہ ہیں، لیکن عسکری نوعیت کے اس واقعے نے دونوں دارالحکومتوں کے تعلقات کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ قطری حکام کی جانب سے فی الحال اس معاملے پر انتہائی نپی تلی تردید یا تصدیق سامنے آرہی ہے، تاہم بیک چینل سفارت کاری کے ذریعے پائلٹوں کی رہائی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
- قطری سکیورٹی فورسز کی قید میں موجود پائلٹوں کی سلامتی کے حوالے سے تہران کو خدشات لاحق ہیں۔
- ایرانی وزارتِ خارجہ نے باضابطہ سفارتی نوٹس کے ذریعے قونصلر رسائی اور فوری رہائی کا کہا ہے۔
- خطے کے دیگر ممالک اس کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ عسکری اضافے کو روکا جا سکے۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
آنے والے دنوں میں اس بات کا امکان ہے کہ ثالث ممالک کی مداخلت سے اس مسئلے کا سفارتی حل نکالا جائے۔ اگر قطری حکام نے پائلٹوں کو رہا کر دیا تو اس سے دوطرفہ کشیدگی میں کمی آئے گی، بصورت دیگر خلیجی خطے میں سکیورٹی کے امور مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
