ایران اور عمان نے ایک نئے strait of hormuz shipping route (تنگہ ہارمز کے بحری راستے) پر ایک تاریخی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے، جس سے توانائی کے بحران سے دوچار پاکستان کے لیے تیل کی سپلائی مستحکم ہونے اور بحری مال برداری کے اخراجات میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ یہ دوطرفہ معاہدہ اس بات کا واضح ترین اشارہ ہے کہ اس اہم ترین آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے مہینوں سے جاری سفارتی کوششیں بالآخر کامیابی کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب علاقائی بحری سلامتی کو ایک بڑا قانون سازی کا سہارا ملا ہے۔ اتوار، 10 اگست 2025 کو، ایرانی پارلیمان کے کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی نے ایک اسٹریٹجک اقدام کے وسیع فریم ورک کو منظور کیا جس کا مقصد علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا اور پائیدار بحری ٹریفک کو یقینی بنانا ہے۔ یہ قانون سازی عمان کے ساتھ نئے بحری معاہدے کو قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے اور فوری آپریشنل منصوبہ بندی کی راہ ہموار کرتی ہے۔
پاکستان کے لیے، جو مشرق وسطیٰ سے توانائی کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، خلیج کے بحری حالات میں کسی بھی قسم کی تبدیلی براہ راست ملکی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
Why the Strait of Hormuz Shipping Route Matters to Pakistan (پاکستان کے لیے تنگہ ہارمز کا بحری راستہ کیوں اہم ہے؟)
تنگہ ہارمز دنیا کا سب سے اہم ترین تیل کی ترسیل کا راستہ ہے، جہاں سے روزانہ عالمی تیل کی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ آبی گزرگاہ کسی معاشی شہ رگ سے کم نہیں ہے۔
پاکستان اپنی خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور کویت سے درآمد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، قطر سے آنے والی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے جہازوں کو بھی کراچی کے پورٹ قاسم تک پہنچنے کے لیے اسی تنگ راستے سے گزرنا پڑتا ہے۔
جب بھی اس خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے، شپنگ کمپنیاں فوری طور پر اپنے کرایوں میں اضافہ کر دیتی ہیں اور بھاری "وار-رسک" انشورنس لاگو کر دیتی ہیں۔ یہ اضافی اخراجات براہ راست پاکستانی صارفین پر منتقل ہوتے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) پیٹرول اور ڈیزل کی پندرہ روزہ قیمتوں کے تعین میں ان بین الاقوامی شپنگ اخراجات کو شامل کرتی ہے۔ ایک محفوظ اور باہمی طور پر طے شدہ strait of hormuz shipping route ان انشورنس اخراجات کو کم کرے گا، جس سے مقامی ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم کرنے اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ایرانی پارلیمان سے اسٹریٹجک فریم ورک کی منظوری
تہران میں اس معاہدے کو نئی قانون سازی کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی نے 10 اگست 2025 کو شپنگ لینز کے ساتھ حفاظتی پروٹوکول کو معیاری بنانے کے لیے ایک اسٹریٹجک فریم ورک منظور کیا۔
حکام کے مطابق، اس فریم ورک کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- تجارتی جہازوں کے لیے مخصوص محفوظ راہداریاں قائم کرنا تاکہ حادثاتی فوجی تصادم سے بچا جا سکے۔
- ایرانی اور عمانی بحری حکام کے درمیان مشترکہ تلاش اور بچاؤ (سرچ اینڈ ریسکیو) کے آپریشنز کو بہتر بنانا۔
- بحری ٹریفک کی نگرانی اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کے لیے حقیقی وقت (رئیل ٹائم) میں ڈیٹا شیئرنگ کا نظام قائم کرنا۔
- دونوں ممالک کے علاقائی پانیوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنا۔
ان پروٹوکولز کو باقاعدہ شکل دے کر، مسقط اور تہران بین الاقوامی شپنگ لائنوں کو یہ یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ علاقائی رقابتوں کے باوجود یہ آبی گزرگاہ تجارتی نقل و حمل کے لیے کھلی اور محفوظ رہے۔
پاکستان کی بحری تجارت اور پورٹ قاسم پر اثرات
اس سفارتی کامیابی کے فوائد صرف ایندھن کی قیمتوں تک محدود نہیں ہیں۔ پاکستان کی بحری تجارت، جس کی مالیت سالانہ اربوں ڈالر ہے، مستحکم بحری راستوں پر منحصر ہے۔
پاکستان کی بڑی شپنگ کمپنیاں اور سرکاری ادارے، جیسے کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی)، آپریشنل خطرات میں کمی سے براہ راست فائدہ اٹھائیں گے۔ محفوظ راستوں کا مطلب کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر جہازوں کی آمد میں کم تاخیر ہے، جس سے خام مال، صنعتی مشینری اور صارفین کے سامان کی سپلائی چین زیادہ قابل اعتماد ہو جائے گی۔
مزید برآں، اس معاہدے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا علاقائی استحکام گوادر پورٹ کی اہمیت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت گوادر پورٹ کی ترقی کے ساتھ، خلیج فارس کا محفوظ ہونا پورے بحیرہ عرب کے خطے کو بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کے لیے مزید پرکشش بنا دے گا۔
پاکستانی کاروبار اور صارفین کو کیا کرنا چاہیے؟
اگرچہ سفارتی فریم ورک اب فعال ہو چکا ہے، لیکن اس کے عملی نفاذ میں کچھ وقت لگے گا۔ اس دوران آپ کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
- اوگرا کے فیصلوں پر نظر رکھیں: اگر آپ کاروبار کے
