ایرانی پارلیمنٹ نے حکومت کی جانب سے ایران پٹرول قیمت بڑھانے کے منصوبے کو روک دیا ہے، اور صدر مسعود پزشکیان کی انتظامیہ کو عوامی ردعمل سے خبردار کرتے ہوئے ایندھن کے سبسڈی نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران میں ارکانِ پارلیمنٹ کی اکثریت نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ عوام کی کمزور معاشی حالت کے پیش نظر پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرے۔ یکطرفہ اضافے کے بجائے، پارلیمنٹ سبسڈی والے پٹرول کی تقسیم کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیاں لانے پر زور دے رہی ہے۔

یہ فیصلہ ایران اور اس کے پڑوسی ممالک، خاص طور پر پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ دہائیوں سے سستا ایرانی ایندھن پاکستانی سرحدی علاقوں کے لیے ایک لائف لائن رہا ہے، لیکن یہ ایک بہت بڑی غیر رسمی معیشت کو بھی چلاتا ہے۔ ایرانی پٹرول کی پالیسیوں میں کوئی بھی تبدیلی بلوچستان، سندھ اور پنجاب کی غیر رسمی ایندھن منڈیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیوں روکا؟

ایرانی مجلس (پارلیمنٹ) کی جانب سے پٹرول کی قیمتیں بڑھانے سے روکنے کا فیصلہ ملک میں ممکنہ عوامی احتجاج اور بدامنی کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ ایران اس وقت دنیا میں سب سے سستا ایندھن فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ موجودہ کوٹہ سسٹم کے تحت، شہریوں کو ماہانہ مخصوص مقدار میں پٹرول صرف 1500 تومان (تقریباً 3 امریکی سینٹ) فی لیٹر ملتا ہے، جبکہ کوٹہ سے زائد پٹرول کی قیمت 3000 تومان ہے۔

صدر مسعود پزشکیان کی حکومت بجٹ خسارے اور بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے ان بھاری سبسڈیز کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ تاہم، پارلیمنٹ کے ارکان 2019 کے پرتشدد مظاہروں کو نہیں بھولے، جو پٹرول کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے بعد شروع ہوئے تھے۔ پارلیمنٹ کا موقف ہے کہ حکومت تقسیم کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیے بغیر قیمتیں نہیں بڑھا سکتی، کیونکہ موجودہ نظام سے غریبوں کے بجائے امیر طبقہ زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔

پٹرول اسمگلنگ کا گٹھ جوڑ: پاکستان پر اس کے اثرات

پاکستانی صارفین کے لیے ایران پٹرول قیمت کا مستحکم رہنا صرف ایک بیرونی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان کے اپنے بجٹ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پاکستان، بالخصوص بلوچستان اور کراچی میں استعمال ہونے والے ایندھن کا ایک بڑا حصہ ایرانی پٹرول اور ڈیژل کی اسمگلنگ پر مشتمل ہے۔

اس نظام کے پاکستان کی معیشت پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں:
- قیمتوں کا فرق: پاکستان میں اوگرا (OGRA) کا مقرر کردہ سرکاری پٹرول 260 سے 280 روپے فی لیٹر کے درمیان فروخت ہو رہا ہے، جبکہ اسمگل شدہ ایرانی پٹرول سرحدی علاقوں اور کراچی کے مضافات میں 200 سے 220 روپے فی لیٹر مل جاتا ہے۔
- سرحدی معیشت: بلوچستان میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار مکمل طور پر ایرانی تیل کی نقل و حمل اور تجارت (زامیاد گاڑیوں کے ذریعے) سے وابستہ ہے۔
- سرکاری خزانے کو نقصان: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو اس غیر قانونی تجارت کی وجہ سے سالانہ اربوں روپے کے کسٹمز ڈیوٹی کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، حالانکہ حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے دباؤ پر اس کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کرتی رہتی ہے۔

اگر ایرانی پارلیمنٹ قیمتوں میں اضافے کی اجازت دے دیتی، تو پاکستان میں اسمگل شدہ پٹرول کی قیمتیں فوری طور پر بڑھ جاتیں، جس سے سرحدی علاقوں میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ جاتا۔

پاکستانی صارفین کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگرچہ ایرانی پارلیمنٹ نے عارضی طور پر قیمتوں میں اضافہ روک دیا ہے، لیکن تہران پر سبسڈی کے نظام کو تبدیل کرنے کا دباؤ برقرار رہے گا۔ اگر آپ پاکستان میں غیر رسمی ذرائع سے حاصل ہونے والے ایرانی ایندھن پر انحصار کرتے ہیں، تو آپ کو مستقبل کی ممکنہ تبدیلیوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

سب سے پہلے، اپنے ایندھن کی کوالٹی پر توجہ دیں۔ سرحد پار سے آنے والے ایرانی پٹرول میں اکثر ملاوٹ کی جاتی ہے، جو جدید ای ایف آئی (EFI) انجنوں اور کیٹلیٹک کنورٹرز کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اگر سرکاری پٹرول اور ایرانی پٹرول کی قیمتوں کا فرق کم ہو جاتا ہے، تو چند روپے بچانے کے لیے گاڑی کے مہنگے انجن کو خطرے میں ڈالنا عقلمندی نہیں ہوگی۔

دوسرا، سرحدی قوانین پر نظر رکھیں۔ حکومتِ پاکستان بلوچستان کی سرحد پر اسمگلنگ کے خلاف قوانین کو سخت کرتی رہتی ہے۔ کسی بھی اچانک کریک ڈاؤن اور ایران میں ممکنہ قیمتوں کے اضافے کی صورت میں سستے پٹرول کی سپلائی بند ہو سکتی ہے، اس لیے اپنے ماہانہ بجٹ کی منصوبہ بندی ہمیشہ سرکاری قیمتوں کے مطابق کریں۔

علاقائی توانائی کی مارکیٹ میں آگے کیا ہوگا؟

صدر پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے درمیان یہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا۔ ایرانی حکومت کو ایک متوازن بجٹ پیش کرنا ہے، اور ایندھن کی سبسڈیز ان کے خزانے پر سب سے بڑا بوجھ ہیں۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا ایرانی حکومت کوئی ایسا "سمارٹ کارڈ" نظام متعارف کراتی ہے جس کے تحت سبسڈی صرف کم آمدنی والے خاندانوں تک محدود کر دی جائے۔

اس کے علاوہ، پاک ایران سرحد پر سیکیورٹی کے حالات بھی اہم ہیں۔ پاکستانی فوج اور کسٹمز حکام نے حال ہی میں اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں تیز کی ہیں۔ سرحد پر سختی اور تہران کی پالیسیوں میں تبدیلی پاکستان میں پٹرول کی سرکاری طلب کو بڑھا سکتی ہے، جس سے حکومت پر مزید پٹرول امپورٹ کرنے کا دباؤ بڑھے گا اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر متاثر ہو سکتے ہیں۔