ایران فعال طور پر اپنی تجارت کا ایک بڑا حصہ پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے منتقل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ اقدام علاقائی لاجسٹکس کو تبدیل کرنے اور مقامی سمندری محصولات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ تہران کے حکام کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں گہرا تعاون اس حکمت عملی کے حصول کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستان ایران تجارت کا فروغ

دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی قربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ایران اپنی برآمدات اور درآمدات کے لیے ٹرانزٹ ٹائم اور آپریشنل اخراجات کو کم کرنے کا خواہشمند ہے۔ پاکستان کا سمندری انفراسٹرکچر، خاص طور پر کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں، ایرانی سامان کے لیے عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے ممکنہ گیٹ وے کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ اس پیش رفت کے لیے تفتان جیسے سرحدی راستوں پر کسٹمز، سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔

توانائی اور کنیکٹیویٹی کلیدی ستون

تجارت بڑھانے کا یہ مطالبہ ایک واضح شرط کے ساتھ سامنے آیا ہے: توانائی کے شعبے میں گہرا تعاون۔ ایران، جس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں، پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی کی مانگ کے ساتھ اپنے برآمدی مفادات کو ہم آہنگ کرنے کا خواہاں ہے۔ پاکستانی عوام کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت طویل عرصے سے تعطل کا شکار توانائی کے منصوبوں، جیسے کہ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن، کو نہ صرف توانائی کے حل کے طور پر بلکہ علاقائی تجارتی رابطوں کے فروغ کے لیے بھی دیکھ رہی ہے۔

  • بہتر لاجسٹکس: ایرانی کارگو کے لیے ٹرانزٹ راستوں کو مختصر کرنا۔
  • معاشی ترقی: پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ اتھارٹیز کے لیے محصولات میں اضافہ۔
  • اسٹریٹجک ہم آہنگی: باہمی معاشی انحصار کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا۔

مقامی معیشت کے لیے اس کے اثرات

اگر یہ منصوبہ مذاکرات کی میز سے نکل کر عملی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو پاکستان کو ٹرانزٹ فیس اور لاجسٹکس و شپنگ کے شعبوں میں ضمنی کاروبار سے کافی فائدہ ہوگا۔ ہماری بندرگاہوں پر جہازوں کی بڑھتی ہوئی آمدورفت سے ٹرمینل آپریشنز کی کارکردگی میں بہتری آئے گی، جس سے پورٹ مینجمنٹ، فریٹ فارورڈنگ اور کسٹمز کے شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس اقدام کی کامیابی کا انحصار بڑی حد تک بین الاقوامی پابندیوں سے نمٹنے اور اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ مالیاتی ڈھانچہ، جیسے بینکنگ چینلز، عالمی ضوابط کی خلاف ورزی کیے بغیر اس بڑے پیمانے کی تجارت کو سہارا دے سکے۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

اسلام آباد اور تہران کے درمیان آئندہ ہونے والی وزارتی سطح کی ملاقاتوں پر نظر رکھیں۔ توجہ اس بات پر ہوگی کہ آیا دونوں فریق توانائی کی قیمتوں اور ٹرانزٹ ٹیرف کے فریم ورک پر متفق ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، وزارت سمندری امور کی جانب سے کارگو کے متوقع حجم کو سنبھالنے کے لیے بندرگاہی سہولیات کو اپ گریڈ کرنے کے اعلانات کا انتظار کریں۔ اگر آپ لاجسٹکس یا درآمد و برآمد کی صنعت سے وابستہ ہیں، تو ایران کے ساتھ تجارتی ادائیگیوں سے متعلق اسٹیٹ بینک کی پالیسی پر نظر رکھیں، کیونکہ یہی چیز نجی شعبے کے لیے ان تجارتی راستوں کی فعالیت کا تعین کرے گی۔