ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں ہونے والی ایک خفیہ ملاقات کے دوران سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا چہرہ تک دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پاکستانی قارئین کے لیے جو خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں، تہران کی اندرونی سیاست بہت اہمیت رکھتی ہے۔ بلوچستان کے ساتھ سرحدی سکیورٹی، تجارت اور توانائی کے منصوبے دونوں ملکوں کو براہ راست جڑتے ہیں۔ جب تہران کے اعلیٰ ترین حلقوں میں اس درجے کی رازداری برتی جائے، تو یہ اندرونی کشیدگی کی علامت ہوتی ہے جو سرحد پار بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔

استعفیٰ کی دھمکی کے بعد ملاقات کی منظوری

یہ انتہائی حساس ملاقات اتنی آسانی سے طے نہیں پائی تھی۔ اطلاعات کے مطابق پزشکیان نے بار بار اصرار کیا اور یہاں تک کہ استعفیٰ دینے کی دھمکی بھی دی، جس کے بعد جا کر سپریم لیڈر کے دفتر نے ملاقات کی حامی بھری۔ تہران کا انتظامی ڈھانچہ پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں اور معاشی دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں صدر اور مذہبی قیادت کے درمیان کھینچ تان معمول کی حکمرانی کو متاثر کرتی ہے۔ جب ایک منتخب صدر کو ملاقات کے لیے دھمکیوں کا سہارا لینا پڑے، تو اس سے حکومتی نظام میں پائی جانے والی دراڑیں واضح ہوتی ہیں۔

  • صدر پزشکیان کی طرف سے ملاقات کی مسلسل درخواستیں
  • استعفیٰ کی دھمکی کے بعد دباؤ میں اضافہ
  • سپریم لیڈر کے دفتر کی طرف سے سخت شرائط پر رضامندی

ملاقات کے لیے غیر معمولی سکیورٹی اور پابندیاں

اس ملاقات کے انتظامات عام سفارتی آداب کے بالکل برعکس تھے۔ حکام نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ یہ نشست سپریم لیڈر کی سرکاری رہائش گاہ پر نہیں ہوگی۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ سکیورٹی کے سخت ترین حصار کے باعث صدر پزشکیان ملاقات کے دوران سپریم لیڈر کا چہرہ بھی نہیں دیکھ سکے۔ اس قسم کے سخت اقدامات اندرونی سکیورٹی خدشات اور انٹیلی جنس لیک کے ڈر کی عکاسی کرتے ہیں۔

علاقائی سفارت کاری پر اس کے اثرات

اسلام آباد جیسے دارالحکومتوں کے لیے تہران کے اندرونی طاقت کے توازن کو دیکھنا اسٹریٹجک لحاظ سے اہم ہے۔ ایران میں عدم استحکام سرحدی انتظام اور دوطرفہ تجارت کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستانی تاجر جو سیستان و بلوچستان کے راستے تجارت کرتے ہیں، ان تمام تبدیلیوں پر نظر رکھتے ہیں کیونکہ تہران کا اندرونی بحران براہ راست سرحدی گزرگاہوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔

آگے کیا دیکھنا چاہیے؟

آنے والے دنوں میں تہران سے آنے والے سرکاری بیانات پر نظر رکھیں۔ کابینہ میں کسی بھی اچانک ردوبدل یا پالیسی میں تبدیلی سے یہ واضح ہوگا کہ صدارتی محل اور مذہبی قیادت کے درمیان کشیدگی کس نہج پر پہنچ چکی ہے۔ اگر سرحدی تجارت یا سکیورٹی کے قواعد میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو اس کا مطلب اندرونی تنازع کا پالیسی میں جھلکنا ہوگا۔