ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ ایران غزہ سے متعلق جاری تمام مذاکرات میں حماس کا بھرپور ساتھ دے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، حماس پولیٹیکل بیورو کے سربراہ خلیل الحیہ سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر نے واضح کیا کہ تہران فلسطینی مزاحمتی تنظیم کی پشت پناہی جاری رکھے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر غزہ کے مستقبل اور جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن فریقین کے درمیان پوزیشنز میں تاحال واضح تعطل پایا جاتا ہے۔
امریکی ردعمل اور تہران میں اندرونی تضادات
دوسری جانب، امریکہ نے ایران کے اندرونی سیاسی منظرنامے پر سخت تبصرہ کیا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنی انتظامیہ کی پالیسیوں پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تہران کے ساتھ معاملات میں بنیادی مشکل ایرانی حکومت کے اندر موجود پالیسی تضادات ہیں۔ ان کے مطابق، ایرانی حکومت کا ایک حلقہ مغرب کے ساتھ مذاکرات کا خواہش مند ہے، جبکہ دوسرا طاقتور حلقہ ہر صورت میں جنگ جاری رکھنے اور محاذ آرائی کو طول دینے کا حامی ہے، جس کی وجہ سے کسی بھی سنجیدہ سفارتی پیشرفت میں شدید رکاوٹیں حائل ہو رہی ہیں۔
علاقائی صورتحال اور انسانی بحران
پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے مبصرین کے لیے یہ پیشرفت اس بات کی غماز ہے کہ غزہ میں فوری امن کا حصول فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔ محصور پٹی میں امدادی سامان کی قلت بدستور برقرار ہے اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ عرب اور یورپی ممالک کی ثالثی ٹیمیں جنگ بندی کے لیے مختلف فارمولوں پر کام کر رہی ہیں، لیکن ایرانی صدر کے تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ مغربی دباؤ کے سامنے جُھکنے کو تیار نہیں۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
آنے والے ہفتوں میں آپ کو چند اہم امور پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ حماس کی قیادت مصری اور قطری ثالثوں کی نئی تجاویز پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی انتظامیہ کی طرف سے ایران کے مالیاتی نیٹ ورکس پر مزید دباؤ یا پابندیوں کے اقدامات کا بھی جائزہ لیں۔ یہ دیکھنا بھی اہم ہوگا کہ آیا ایرانی حکومت کے اعتدال پسند حلقے اور مغربی سفارت کاروں کے درمیان کوئی پس پردہ رابطہ تہران کے سخت مؤقف میں کسی لچک کا باعث بنتا ہے یا نہیں۔
