ایران نے آبنائے ہرمز پر امریکی فوج کے کنٹرول کے دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم سمندری گزرگاہ پر پاسدارانِ انقلاب کا کنٹرول بدستور برقرار ہے۔ تہران کی جانب سے یہ بیان واشنگٹن کے ان دعووں کے جواب میں سامنے آیا ہے جن میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار فرار ہو گئے ہیں اور اب یہ علاقہ امریکی فوج کے زیرِ اثر ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت اور پاکستان پر اثرات
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم شریان ہے، اور یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے براہِ راست اثرات پاکستان کی معیشت پر پڑتے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ہوتا ہے۔ اس لیے خطے میں جاری کشیدگی پاکستانی عوام کے لیے تشویش کا باعث بنتی ہے کیونکہ اس سے ایندھن کی درآمدی لاگت اور سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے نئے سربراہ میجر جنرل احمد واحدی نے واضح کیا ہے کہ ان کی تنظیم 'صہیونی امریکی غرور' کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گی۔ انہوں نے اسے آئی آر جی سی کا بنیادی اصول قرار دیا ہے۔
امریکی دعوے اور ردعمل
امریکی صدر کی جانب سے کیے گئے دعووں میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایرانی فورسز نے اپنی پوزیشن چھوڑ دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی صدر نے اپنے بیان کے اختتام پر 'سب تعریف اللہ کے لیے ہے' (Praise be to Allah) کے الفاظ بھی استعمال کیے۔ ایرانی حکام نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بحری موجودگی نہ صرف برقرار ہے بلکہ وہ خطے میں اپنی خودمختاری کا دفاع کر رہے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
- عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر نظر رکھیں، کیونکہ کشیدگی بڑھنے سے پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
- دفتر خارجہ کے بیانات کا جائزہ لیں، جو خطے میں امن اور سفارت کاری کے لیے پاکستان کی پالیسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
- سمندری تجارتی راستوں پر سیکیورٹی کی صورتحال پر نظر رکھیں، کیونکہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تجارت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
پاکستان، جو خطے میں امن و امان کا خواہاں ہے، تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ سفارتی ذرائع سے کشیدگی کو کم کریں۔ فی الحال صورتحال بدستور تناؤ کا شکار ہے اور عالمی برادری اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
